جیور میں شمالی ہندوستان کے پہلے سیمی کنڈکٹر یونٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا، وزیر اعظم نے کہنا - دنیا ہندوستان کو ٹیکنالوجی کے مستقبل کے مرکز کے طور پر تسلیم کر رہی ہے
نئی دہلی، 21 فروری (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اترپردیش کے جیور میں شمالی ہندوستان کی پہلے سیمی کنڈکٹر یونٹ ”انڈیا چپ“ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پروجیکٹ ایچ سی ایل اور فاکس کان کے درمیان مشترکہ صنعت کے طور پر قائم ک
Modi-Semiconductor-Plant-Jewar


نئی دہلی، 21 فروری (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اترپردیش کے جیور میں شمالی ہندوستان کی پہلے سیمی کنڈکٹر یونٹ ”انڈیا چپ“ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پروجیکٹ ایچ سی ایل اور فاکس کان کے درمیان مشترکہ صنعت کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پروزیر اعظم نے کہا کہ دنیا ہندوستان کو ٹیکنالوجی کے مستقبل کے مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہے اور ہندوستان سافٹ ویئر کے ساتھ ساتھ ہارڈ ویئر کے شعبے میں بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان تیزی سے ترقی یافتہ ملک بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لال قلعہ سے اپنے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس رکنے یاقیام کرنے کا وقت نہیں ہے۔ سال 2026 کے آغاز سے ہی ملک نے ترقی کی رفتار کو مزید تیز کر دیا ہے۔ 12 جنوری کو ’وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ‘ میں لاکھوں نوجوانوں کی شرکت، 16 جنوری کو نیشنل اسٹارٹ اپ ڈے کا جشن، اور انڈیا انرجی سمٹ جیسے واقعات نے عالمی سطح پر ہندوستان کی صلاحیت کو مضبوطی سے ظاہر کیا ہے۔ حال ہی میں منعقدہ ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں کئی عالمی سربراہان مملکت اور ٹیکنالوجی رہنماو¿ں کی موجودگی نے ہندوستان کی اے آئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ جدید دنیا کو چلانے کے لیے درکار پروسیسنگ پاور میں ہندوستان سرکردہ ممالک میں صف میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندوستان سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر، دونوں پہلوو¿ں پر یکساں طور پر کام کر رہا ہے۔ اتر پردیش کا سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کا ایک بڑا مرکز بننا ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔ ایچ سی ایل اور فاکس کان کی یہ نئی فیکٹری ریاست کو ٹیکنالوجی پاور ہاو¿س کے طور پر ایک نئی شناخت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش سے ممبر پارلیمنٹ کے طور پر یہ ان کے لئے خاص فخر کا لمحہ ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جہاں سیمی کنڈکٹر یونٹ قائم ہوتا ہے، وہاں ڈیزائن سینٹر، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بھی ترقی کرتے ہیں۔ اس سے بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہائی ہندوستان کی ’ٹیک ایڈ‘ کی دہائی ہے اور 21ویں صدی میں ہندوستان گرین انرجی ، خلائی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اختراع، مینوفیکچرنگ اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں بے مثال سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے اب تک سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت 10 فیبریکیشن اور پیکیجنگ پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے، جن میں سے چار جلد ہی پیداوار شروع کرنے والے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 20 ویں صدی میں جس ملک کے پاس تیل تھا، اسی کو خوشحال سمجھا جاتا تھا لیکن 21 ویں صدی میں وہی طاقت ایک چھوٹی سی چپ اور اس سے منسلک مہارتوں اور مواد کے پاس ہے۔ کورونا وبا کے دوران چپ سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس بحران سے سیکھ کر خود انحصار بننے کا عزم کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وکست بھارت کی تعمیر صرف خود انحصاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور ”میڈ ان انڈیا“ چپس بہت اس میں کافی اہمیت کی حامل ہوں گی۔ ڈیجیٹل انڈیا، اے آئی ، 5جی ، 6جی ، الیکٹرک گاڑیاں اور دفاعی شعبہ سمیت سیمی کنڈکٹر چپس جدید آلات کا مرکز ہیں۔ اگر ہندوستان کے پاس اپنے چپس ہوں گے تو مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار بلا تعطل قائم رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ فاکس کان جیسی عالمی کمپنیوں کی ہندوستان میں سرمایہ کاری یہ پیغام دیتی ہے کہ ہندوستان ایک قابل اعتماد جمہوری شراکت دار ہے۔ کسی بھی ویلیو چین میں ہندوستان کی شرکت میں اضافہ اس کا استحکام اور پائیداری کو بھی بڑھاتا ہے۔ دنیا کی فیکٹری کے طور پر ہندوستان کی پہچان تمام ممالک کے لیے ایک جیت کی صورت حال ہے۔ ہندوستان کا ہنر بھی عالمی توجہ مبذول کر رہا ہے۔

میک ان انڈیا پہل کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں، ہندوستان نے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ الیکٹرانکس کی مینوفیکچرنگ میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور الیکٹرانکس کی برآمدات میں تقریباً آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ موبائل فون کی مینوفیکچرنگ میں 28 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جبکہ موبائل فون کی برآمدات میں 100 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے آدھے سے زیادہ موبائل فون اتر پردیش میں بنائے جاتے ہیں، جو ریاست کو مینوفیکچرنگ کا ایک مضبوط ستون بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہائی قبل اتر پردیش نقل مکانی، غربت اور جرائم جیسے مسائل سے جڑا ہوا تھا، لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ایکسپریس وے ، دفاعی راہداری، سیاحت اور جدید کنیکٹیویٹی پروجیکٹوں نے ریاست کو ایک نئی جہت دی ہے۔ جیور انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور خطے کی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ وزیر اعظم نے یقین ظاہر کیا کہ اتر پردیش ترقی کرتا رہے گا اور ملک کی ترقی میں کلیدی رول ادا کرے گا۔

تقریب میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے کثیر جہتی وژن کی وجہ سے اتر پردیش تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومتوں کے دوران فائرنگ، اغوا اور لاقانونیت رہی۔ خوف اتنا شدید تھا کہ لوگوں نے غروب آفتاب کے بعد گھروں سے نکلنے سے گریز کرتے تھے ۔ آج جیور خطہ نہ صرف اتر پردیش بلکہ ہندوستان کے زیور کے طور پر ابھر رہا ہے۔

یوگی نے کہا کہ آج یہاں ریاست کی پہلی سیمی کنڈکٹر یونٹ کا قیام اس خطے کو ایک نئی شناخت دے گا۔ ہر ایک کی مثبت کوششوں کی بدولت یہ خطہ نہ صرف موبائل فون کی تیاری بلکہ الیکٹرانک پرزوں کے لیے بھی ایک بڑے مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر قائم ہو رہا ہے۔ یوگی نے کہا کہ اتر پردیش ملک میں ایک سرکردہ ریاست کے طور پر ترقی کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande