

پولیس نے بیریکیڈنگ کر کے راستہ روکا، واٹر کینن کا بھی استعمال کیا
اندور، 21 فروری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں ہفتہ کو بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے مظاہرے کے دوران حالات بے قابو ہو گئے۔ موقع پر پہلے سے تعینات پولیس نے دونوں طرف بیریکیڈنگ کر کے کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس کے بعد مظاہرہ پرتشدد ہو گیا اور دونوں طرف سے ہنگامے کی صورتحال بن گئی۔ کانگریس اور بی جے وائی ایم کے کارکنوں کے درمیان ایک دوسرے پر پتھراو ہوا۔ اس دوران پانی کی بوتلیں، تیل کی تھیلیاں، پتھر کے ساتھ ساتھ سنگترے اور ٹماٹر بھی پھینکے گئے۔ حالات بگڑنے پر پولیس کو بھیڑ پر قابو پانے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا۔
دراصل، دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران کانگریس کارکنوں کے نیم برہنہ مظاہرے کی مخالفت میں ہفتہ کو بی جے وائی ایم کے کارکنان کانگریس دفتر کا گھیراو کرنے کے لیے گاندھی بھون پہنچے۔ یہاں پہلے سے تعینات پولیس فورس نے سیکورٹی کے پیش نظر دونوں طرف بیریکیڈنگ کر کے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مظاہرے کے دوران کانگریس اور بی جے وائی ایم کے کارکنوں کا آمنا سامنا ہو گیا۔ تبھی اچانک پتھراو شروع ہو گیا، جس سے مظاہرہ پرتشدد ہو گیا اور موقع پر افرا تفری کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے دونوں فریقین کی جانب سے پتھر کے ساتھ ہی پانی کی بوتلیں، تیل کی تھیلیاں،سنگترے اور ٹماٹر تک ایک دوسرے پر پھینکے گئے۔ اس دوران کئی کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے بعد انہیں فوری علاج کے لیے اسپتال بھیجا گیا۔ جائے وقوعہ پر کوریج کے لیے پہنچے کچھ میڈیا اہلکار بھی پتھراو کی زد میں آ گئے۔ پتھراو کے درمیان سب انسپکٹر آر ایس بگھیل بھی زخمی ہو گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے سینے کے پاس ایک بڑا پتھر لگا، جس کے بعد انہیں اسپتال بھیجا گیا ہے۔ اس دوران بی جے پی کی خاتون کارکن لیڈر بندو چوہان کو بھی شدید چوٹ آئی ہے، انہیں ایک نجی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
حالانکہ، پولیس نے صورتحال سنبھالی اور دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کو پیچھے دھکیلا۔ فساد کنٹرول گاڑی وجر بھی تعینات تھی اور بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، لیکن پانی کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے یہ موثر نہیں ہوا۔ اس واقعے کے بعد بی جے پی کارکنان پنڈھری ناتھ تھانے کا گھیراو کرنے پہنچے اور کانگریسیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی ایم ایل اے گولو شکلا نے واقعہ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ یووا مورچہ کے لیڈران مظاہرہ کر رہے تھے، ان پر کانگریسیوں نے پتھراو کیا۔ اس میں کئی کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔ بی جے پی لیڈر سمت مشرا نے کہا کہ کانگریسی پہلے سے حملے کی تیاری کر کے بیٹھے تھے۔ ہماری ایک لیڈر کے سر میں آٹھ ٹانکے آئے ہیں۔ وہیں، کانگریس لیڈر امن بجاج نے بتایا کہ ہمارے آٹھ عہدیداران اور کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔ ضلع صدر وپن وانکھیڑے اور مہیلا مورچہ کی صدر سونیلا ممروٹ بھی زخمی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن