بوتسوانا سے 28 فروری کو آٹھ چیتے مدھیہ پردیش آئیں گے
بوتسوانا سے 28 فروری کو آٹھ چیتے مدھیہ پردیش آئیں گے ۔ دنیا کے سب سے کامیاب پروجیکٹ ’’پروجیکٹ چیتا‘‘ ’’فطرت سے ترقی‘‘ کا پیغام: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو بھوپال، 21 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر م
چیتا پروجیکٹ فائل فوٹو


بوتسوانا سے 28 فروری کو آٹھ چیتے مدھیہ پردیش آئیں گے

۔ دنیا کے سب سے کامیاب پروجیکٹ ’’پروجیکٹ چیتا‘‘ ’’فطرت سے ترقی‘‘ کا پیغام: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو

بھوپال، 21 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں مدھیہ پردیش میں چیتے کی بحالی کا ’’پروجیکٹ چیتا‘‘ دنیا کی سب سے کامیاب مہم ہے۔ آئندہ 28 فروری کو بوتسوانا سے آٹھ مزید چیتے لائے جائیں گے۔ یہ پروجیکٹ ’’فطرت سے ترقی‘‘ کا پیغام ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کونو میں چیتوں کی کامیاب آباد کاری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان میں ناپید ہو چکے چیتے کی بحالی کی تاریخی کوشش، ’’پروجیکٹ چیتا‘‘ نے اپنے تین سال کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے ہیں۔ ستمبر 2022 میں شروع ہوا جنگلی حیات کے تحفظ کا یہ سفر کامیابی کے سنہری زینے چڑھ چکا ہے۔ نمیبیا اور جنوبی افریقہ سے لائے گئے چیتوں نے ہندوستانی سرزمین پر خود کو ڈھال لیا ہے۔ کونو اور گاندھی ساگر سینکچری میں ان کی دوسری نسل کے بچوں کی بے خوف چوکڑیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے تصور کو ریاستی حکومت کی کوششوں نے شرمندہ تعبیر کر دیا ہے۔ ہندوستان کی سینکچریوں میں دوڑ لگاتے چیتوں کی رفتار مستقبل میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی ایک ترغیبی مثال بن رہی ہے۔

قابل غور ہے کہ نمیبیا سے 17 ستمبر 2022 کو آٹھ چیتوں کی مدھیہ پردیش آمد ہوئی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی سالگرہ کے موقع پر انہیں کونو سینکچری کے محفوظ باڑوں میں چھوڑ کر بحالی پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ سے 12 مزید چیتے 18 فروری 2023 کو کونو نیشنل پارک میں چھوڑے گئے۔

جنوبی افریقہ سے آئے 12 میں سے آٹھ چیتے فی الحال کونو سینکچری میں پوری طرح سے آباد ہو کر خود کو موجودہ رہائش کے حالات میں ڈھال چکے ہیں اور پوری طرح صحت مند ہیں۔ ان میں سے تین چیتے گاندھی ساگر سینکچری میں منتقل کیے گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ماوں سے پیدا ہونے والے 10 بچے اس وقت زندہ اور صحت مند ہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والی پہلی بالغ مادہ چیتا ’’مکھی‘‘ نے بھی پانچ بچوں کو جنم دیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں چیتا بحالی پروجیکٹ اب ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ کر مستقل قیام اور افزائش نسل کے مرحلے میں داخل ہو کر جوان ہو چکا ہے۔

’’گامنی‘‘ ابھی حال ہی میں دوسری بار ماں بنی ہے۔ اس کی پہلی کھیپ میں تین صحت مند سب-ایڈلٹ (نیم بالغ) بچے ہیں اور حال ہی میں اس نے تین نئے بچوں کو جنم دیا ہے۔ ویرا اپنے 13 ماہ کے بچے کے ساتھ کھلے جنگل میں گھوم رہی ہے، جبکہ نروا اپنے 10 ماہ کے تین بچوں کے ساتھ محفوظ باڑے میں ہے۔ نمیبیا سے آئے آٹھ میں سے تین چیتے اس وقت کونو میں آباد ہیں اور پوری طرح صحت مند ہیں۔ نمیبیا کی ماؤں سے پیدا ہونے والے 12 بچے اس وقت زندہ ہیں۔ کونو میں سال 2023 سے 2026 کے درمیان کل 39 بچوں کی پیدائش ہوئی، جن میں سے 27 بچے اس وقت کونو میں صحت مند اور زندہ ہیں۔

کونو نیشنل پارک کے ساتھ اب گاندھی ساگر سینکچری کو بھی چیتوں کے دوسرے گھر کے طور پر تیار کیا جا چکا ہے۔ تین جنوبی افریقی چیتوں کی وہاں کامیاب منتقلی ہو چکی ہے۔ ’’پروجیکٹ چیتا‘‘ نے جنگلی حیات کے تحفظ کو عوامی شرکت سے جوڑا ہے۔ اس پروجیکٹ میں تعاون کے لیے 450 سے زیادہ ’’چیتا متر‘‘ تیار ہوئے، ساتھ ہی سینکڑوں بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار پیدا ہوئے۔ اس سے جنگل پر مبنی آجیویکا اور سماجی شرکت کو نئی سمت ملی ہے۔

پروجیکٹ کے تین سالوں میں قدرتی وجوہات اور موافقت سے متعلق چیلنجوں کے باعث کچھ چیتوں کی موت بھی ہوئی۔ لیکن، زندہ چیتوں نے ہندوستانی آب و ہوا، شکار کی انواع اور ماحولیاتی نظام کے مطابق خود کو ڈھال کر یہ ثابت کیا کہ یہ پروجیکٹ طویل مدتی کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ حکومت کا ہدف سال 2032 تک تقریباً 17 ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے میں 70-60 چیتوں کی خود کفیل آبادی قائم کرنا ہے۔ اس کے لیے گجرات کے بنی گھاس کے میدانوں میں ایک تحفظ اور افزائش نسل کا مرکز قائم کیا جائے گا۔

ناپید ہو چکے چیتوں کی محض تین سالوں میں ملک میں کامیاب بحالی ہندوستان کے جنگلی حیات کے تحفظ کی مضبوط مثال ہے۔ افزائش نسل کرتی مادہ چیتوں، دوسری نسل کے بچوں کا زندہ اور صحت مند رہنا اور نئے مسکنوں میں توسیع کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ چیتے کی نسل اب ہندوستان کے جنگلی ماحولیاتی نظام کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande