کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھائے، امریکہ کے ساتھ معاہدے پر تنقید کی
نئی دہلی، 21 فروری (ہ س)۔ کانگریس نے ایک بار پھر بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پارٹی نے حکومت سے پوچھا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے
کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھائے، امریکہ کے ساتھ معاہدے پر تنقید کی


نئی دہلی، 21 فروری (ہ س)۔

کانگریس نے ایک بار پھر بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پارٹی نے حکومت سے پوچھا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کیا۔ اس نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اب معاہدے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کے روز مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار نہ کرنے سے ہم ایک جال میں پھنس گئے۔ نتیجتاً ہم نے امریکہ کو بہت زیادہ رعایتیں دیں۔ تجارتی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان کے زرعی شعبے کو امریکی اشیاء کے لیے کھول دیا، 500 بلین ڈالر کی خریداری کا وعدہ کیا اور روس سے تیل نہیں خریدا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بتانا چاہئے کہ کیوں اور کس کے دباؤ میں ہندوستان کے قومی مفادات اور اسٹریٹجک امداد سے سمجھوتہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ جاگ جائے اور منصفانہ تجارتی معاہدے تک پہنچ جائے۔

لوک سبھا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ایک بار پھر امریکی دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے اس تجارتی معاہدے پر نظر ثانی نہیں کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دنیا بھر کے ممالک پر عائد ٹیرف کو ختم کر دیا ۔ اس فیصلے نے ہندوستان کی 18 فیصد باہمی درآمدی ڈیوٹی کو بھی کالعدم کر دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande