ہیمنت کٹارے نے استعفے کے بعد سوشل میڈیا پر صفائی دی، کہا، میں عہدے سے نہیں، عوام کے اعتماد سے طاقت لیتا ہوں
ہیمنت کٹارے نے استعفے کے بعد سوشل میڈیا پر صفائی دی، کہا، میں عہدے سے نہیں، عوام کے اعتماد سے طاقت لیتا ہوں بھوپال، 21 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی میں کانگریس کے نائب اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد اٹیر (بھنڈ) سے کانگریس رکن اسم
کانگریس رکن اسمبلی ہیمنت کٹارے


ہیمنت کٹارے نے استعفے کے بعد سوشل میڈیا پر صفائی دی، کہا، میں عہدے سے نہیں، عوام کے اعتماد سے طاقت لیتا ہوں

بھوپال، 21 فروری (ہ س)۔

مدھیہ پردیش اسمبلی میں کانگریس کے نائب اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد اٹیر (بھنڈ) سے کانگریس رکن اسمبلی ہیمنت کٹارے کو لے کر ریاست کی سیاست گرما گئی ہے۔ استعفے کی خبروں اور بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کے درمیان ہیمنت کٹارے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پر طویل پوسٹ کرکے صورتحال واضح کیا اور صاف کہا کہ ان کی طاقت کسی عہدے سے نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد سے آتی ہے۔

کٹارے نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ کانگریس ان کے آنجہانی والد کی وراثت ہے۔ فون نہیں اٹھانے کو لے کرچل رہی بحثوں پر انہوں نے کہا، ’’میرے فون نہیں اٹھانے پر براہ کرم بھاری بھرکم قیاس آرائیاں نہ کریں۔ شادی کی سالگرہ پر کنبے کے ساتھ وقت گزارنا کوئی سیاسی سازش نہیں، بلکہ میرا بنیادی اورآئینی حق ہے۔ کبھی کبھی لیڈر بھی انسان ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’’زیادہ خوش فہمی پالنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس بیان کے ساتھ انہوں نے بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو ختم کردیا۔ کٹارے نے اعلان کیا کہ وہ پیر سے ایوان میں پوری تیاری اور دستاویزات کے ساتھ موجود رہیں گے اور حکومت کو مختلف امورپرگھیریں گے۔ انہوں نے گائے کے گوشت، اندور کے بھاگیرتھ پورہ، شنکراچاریہ کی توہین، زہریلی ہوا-دوا-پانی اور بدعنوانی جیسے موضوعات پر آواز اٹھانے کی بات کہی۔ پوسٹ کے آخر میں انہوں نے لکھا- ’’میں عہدے سے نہیں، عوام کے اعتماد سے طاقت لیتا ہوں، وہی میری سب سے بڑی طاقت ہے۔‘‘

ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ کٹارے نے اپنے ٹویٹ میں صورتحال واضح کر دی ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں عوامی نمائندہ عوام کے اعتماد سے کام کرتا ہے اور کٹارے نے جو کہنا تھا، عوامی سطح پر کہہ دیا ہے۔

ریاستی انچارج ہریش چودھری نے اسے پارٹی کا اندرونی معاملہ بتاتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں بات چیت کی روایت ہے اورہرکارکن سے مسلسل بات چیت ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کٹارے کی تقرری کل ہند کانگریس کمیٹی کے ذریعے کی گئی تھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے انہیں یہ ذمہ داری سونپی تھی۔ ایسے میں استعفیٰ قبول کرنے کا اختیار بھی قومی صدر کو ہی ہے۔ چودھری نے کہا کہ دہلی میں ہوئی میٹنگ میں وہ شامل تھے اور پارٹی کے اندر کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہر اندرونی کارروائی کو عام کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ آخری فیصلہ قومی قیادت ہی کرے گی۔‘‘

کانگریس ذرائع کے مطابق کٹارے کا استعفیٰ صرف تنظیمی عہدے سے منسلک ہے، پارٹی رکنیت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ فی الحال، کٹارے کے بیان کے بعد بی جے پی میں جانے کی قیاس آرائیوں پر روک لگ گئی ہے، لیکن نائب اپوزیشن لیڈر کے عہدے کو لے کر آخری فیصلہ اب کانگریس ہائی کمان کے ہاتھ میں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande