
واشنگٹن،07جنوری(ہ س)۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کی قائم مقام حکومت امریکہ کو پانچ کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گی۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اس تیل سے حاصل ہونے والی آمدن بطور صدر ان کی نگرانی میں رہے گی۔ امریکی صدر کے مطابق وینزویلا کے قائم مقام حکام پابندیوں کے باوجود امریکہ کو 3 سے 5 کروڑ بیرل اعلی معیار کا تیل دیں گے، جو مارکیٹ قیمت پر فروخت ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ رقوم اس طرح استعمال کی جائیں گی کہ وینزویلا اور امریکہ، دونوں کے عوام کو فائدہ پہنچے۔
ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ان کی انتظامیہ اس وقت انتخابات کے بجائے وینزویلا کی اصلاح پر توجہ دے رہی ہے اور فی الحال صرف ان افراد سے بات کر رہی ہے جنہوں نے حال ہی میں حلف اٹھایا ہے، جس سے ان کی مراد قائم مقام صدر د?لسی رودر?گ?ز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات مناسب وقت پر ہوں گے۔ اگرچہ ٹرمپ نے دیگر ممالک کے سیاسی معاملات میں مداخلت سے انکار کیا، تاہم انہوں نے حالیہ دنوں میں وینزویلا کے وسیع تیل وسائل میں واضح دل چسپی ظاہر کی، جو دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر سمجھے جاتے ہیں۔دوسری جانب قائم مقام صدر دیلسی رودریگیز نے منگل کو اپنے عہدے کے پہلے دن کہا کہ ملک پر کوئی بیرونی طاقت حکومت نہیں کر رہی۔ انہوں نے امریکی صدر کے ان بیانات کو رد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ اب امریکہ وینزویلا کے معاملات چلا رہا ہے۔ خاتون صدر نے واضح کیا کہ وینزویلا کی حکومت ہی ملک کا نظم سنبھالے ہوئے ہے۔ رودریگیز نے نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد خطاب میں کہا کہ وینزویلا کے عوام ثابت قدم ہیں اور اپنے وطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں، جبکہ امریکی کارروائی میں مارے جانے والوں کے لیے ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا۔ آئین کے مطابق رودریگیز کی قائم مقام مدت 90 دن ہے، جس میں تین ماہ کی توسیع ممکن ہے۔ تاہم اگر صدارت کا عہدہ مستقل طور پر خالی قرار دیا گیا تو 30 دن کے اندر انتخابات کرانا لازم ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan