
واشنگٹن، 7 جنوری (ہ س)۔ امریکہ کی اہم غیر ملکی خفیہ ایجنسی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق افسر ایلڈرچ ایمز کا پیر کے روزامریکہ کی ایک وفاقی جیل میں انتقال ہو گیا۔ وہ میری لینڈ کے شہر کمبرلینڈ میں واقع فیڈرل کریکشنل انسٹی ٹیوشن میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ روس کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزا یافتہ ایمز نے 84 برس کی عمر میں آخری سانس لی۔
امریکی بیورو آف پرزنز کے ایک ترجمان کے مطابق، ایلڈرچ ایمز نے سی آئی اے میں 31 برس تک خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ 1985 سے 1994 کے درمیان انہوں نے امریکی خفیہ معلومات کے بدلے ماسکو سے 25 لاکھ امریکی ڈالر حاصل کیے۔ ترجمان کے مطابق، وہ کمبرلینڈ، میری لینڈ کی وفاقی جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے اور ان کی پیرول کا کوئی امکان نہیں تھا۔ انہوں نے پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس کے لیے جاسوسی کی۔
سی بی ایس نیوز اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق، جاسوسی کے باعث بدنام ہونے والے ایمز نے 100 سے زائد خفیہ آپریشنز کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ جرم قبول کرتے ہوئے ایمز نے مانا تھا کہ اس نے سی آئی اے اور دیگر امریکی و غیر ملکی اداروں کے تقریباً تمام سوویت ایجنٹوں کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، ایمز نے 10 ایجنٹوں کی شناخت ظاہر کی، جن میں سے کم از کم 9 کو پھانسی دے دی گئی۔
ایلڈرچ ایمز 1941 میں وسکونسن کے شہر ریور فالز میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن کا کچھ حصہ جنوب مشرقی ایشیا میں گزارا، جہاں ان کے والد بھی سی آئی اے کے لیے کام کرتے تھے۔ شکاگو یونیورسٹی میں ایک کلاس میں ناکامی کے بعد، ایمز 1962 میں سی آئی اے میں بطور کلرک شامل ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور 1967 میں تاریخ میں ڈگری حاصل کی۔ 1969 میں ان کی پہلی شادی ہوئی، اور ان کی پہلی بیوی بھی سی آئی اے میں ملازم تھیں۔
ایمز نے 1981 سے 1983 کے درمیان میکسیکو سٹی میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہیں ان کی ملاقات روزاریو سے ہوئی، جو کولمبیا کے سفارت خانے میں افسر تھیں۔ بعد میں ایمز نے ان سے شادی کر لی۔ اس کے بعد انہیں کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈویژن کی سوویت شاخ کا سربراہ بنا دیا گیا۔ پہلی بیوی سے طلاق کے بعد وہ شدید قرض میں ڈوب گئے، جس سے نکلنے کے لیے انہوں نے 1985 میں سوویت خفیہ ایجنسی کے جی بی کے افسران سے رابطہ کیا۔ ابتدائی طور پر 50 ہزار ڈالر کے عوض انہوں نے کے جی بی کو سی آئی اے کے ایجنٹوں کی ایک فہرست فراہم کی، جس سے امریکا کو زبردست دھچکا لگا۔
1994 میں سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے جی بی نے تعاون کے بدلے انہیں 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ایمز کئی دیگر ممالک میں بھی تعینات رہے۔ ماسکو کے ایک اور دورے سے قبل، 21 فروری 1994 کو انہیں آرلنگٹن (ورجینیا) میں گرفتار کر لیا گیا۔ تقریباً دو ماہ بعد، ایمز اور ان کی اہلیہ نے اپنی جاسوسی سرگرمیوں سے متعلق الزامات قبول کر لیے۔ ایمز کی اہلیہ کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اس وقت کے سی آئی اے ڈائریکٹر آر جیمز وولسی نے کہا تھا کہ ایمز ’’اپنے ملک کا ایک نہایت خطرناک غدار تھا، جس نے ان کئی لوگوں کی جان لی جنہوں نے امریکا اور مغرب کو سرد جنگ جیتنے میں مدد دی تھی۔‘‘ گرفتاری کے بعد نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایمز نے اعتراف کیا تھا کہ دوسری جانب کے لیے جاسوسی شروع کرنے کی بنیادی وجہ صرف پیسہ تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد