مادورو کی گرفتاری کے بعد برطانوی پارلیمنٹ دو حصوں میں تقسیم
لندن،07جنوری(ہ س)۔ وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی امریکی فوجی کارروائی میں گرفتاری کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ ان کی حکمرانی کے خاتمے پر بہت زیادہ آنسو نہیں بہائے جائیں گے۔امریکہ نے 2026 کا آغاز خارجہ پالیسی میں ایک ڈرا
مادورو کی گرفتاری کے بعد برطانوی پارلیمنٹ دو حصوں میں تقسیم


لندن،07جنوری(ہ س)۔

وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی امریکی فوجی کارروائی میں گرفتاری کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ ان کی حکمرانی کے خاتمے پر بہت زیادہ آنسو نہیں بہائے جائیں گے۔امریکہ نے 2026 کا آغاز خارجہ پالیسی میں ایک ڈرامائی تبدیلی کے ساتھ کیا اور تین جنوری کو وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں راتوں رات ایک فوجی کارروائی میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو بھاری قلعہ بند رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا اور مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے انہیں نیویارک لے گئے۔ اس جوڑے پر متعدد الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے جن میں منشیات کی دہشت گردی اور کوکین درآمد کرنے کی سازش شامل ہے۔

لندن کا اصرار ہے کہ اس نے فوجی کارروائی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ویسٹ منسٹر میں لوگوں کے ردِ عمل نے پارلیمنٹ کو تین وسیع کیمپوں میں تقسیم کر دیا ہے: وہ جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں؛ دوسرے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر ان کی مذمت کرنے والے اور تیسرے جو واشنگٹن کے طریقوں پر تنقید لیکن مادورو کی گرفتاری کی حمایت کرتے ہیں۔سٹارمر کا مو ¿قف تاہم ان تینوں سے مختلف نظر آتا ہے۔ انہوں نے اب تک امریکی کارروائی کی مذمت کرنے سے گریز کیا اور ٹرمپ سے براہِ راست بات نہیں کی ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ واشنگٹن سے برطانیہ کے قریبی اتحاد اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں بیان کردہ وابستگی کے درمیان کسی مقام پر ہیں۔برطانیہ بین الاقوامی سطح پر الگ ہے۔ برطانیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا واحد مستقل رکن ہے جس نے واضح طور پر آپریشن کی مذمت نہیں کی۔ جبکہ چین، روس اور فرانس سب نے ایسا کیا ہے۔کیا ٹرمپ نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، اس سوال کے جواب میں سٹارمر نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ بہت کم لوگ وینزویلا کے غیر قانونی صدر کا ماتم کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون اہم ہے اور کہا ہے کہ یہ واشنگٹن پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اقدامات کا جواز پیش کرے۔

وائٹ ہاو ¿س کے اعلان کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کے کئی ارکان نے تنقید کا اظہار کیا۔ لیبر ایم پی رچرڈ برگون نے سٹارمر کے مو ¿قف کو شرمناک اور لاپرواہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے ٹرمپ کی خوشنودی کے لیے بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کر دیا۔لیبر ایم پی کِم جانسن نے بھی حکومت کے ردِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے امریکہ کے عمل پر سٹارمر کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ ان کے نزدیک یہ کارروائی وینزویلا پر غیر قانونی امریکی بمباری اور اس کے صدر کا بظاہر اغوا تھی۔ انہوں نے استدلال کیا کہ اس کارروائی کا محرک وینزویلا کی تیل کی دولت پر قبضہ کرنا تھا اور اصرار کیا کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی جائے۔پیر کو ممبران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ سکریٹری یویٹ کوپر نے سٹارمر کے تبصروں کی تائید کی اور مادورو حکومت کی بربریت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ان کی گرفتاری پر کوئی ماتم کیوں نہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے ساتھ بین الاقوامی قانون کی اہمیت کا نکتہ اٹھایا تھا اور مزید کہا، یہ واشنگٹن کے لیے ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے لیے قانونی جواز کا تعین کرے۔برطانوی دار العوام کے اسی اجلاس میں کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوچ نے کہا، ان کی پارٹی اس بات کو سمجھتی ہے کہ امریکہ نے ایسا کیوں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بنیادی تشویش یہ تھی کہ برطانیہ کی غیر موجودگی میں بڑے فیصلے کر لیے جاتے ہیں کیونکہ لندن کو کارروائی کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande