۔ 84 ویں انڈین ہسٹری کانگریس میں اے ایم یو کے اسکالرز کا نمایاں کردار
۔ 84 ویں انڈین ہسٹری کانگریس میں اے ایم یو کے اسکالرز کا نمایاں کردار علی گڑھ، 05 جنوری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسکالرز نے 84ویں انڈین ہسٹری کانگریس کے اجلاس میں علمی اور تنظیمی سطح پر اپنی بھرپور موجودگی درج کرائی۔ یہ اجلاس 28 تا 30 دسمب
عرفان حبیب


۔ 84 ویں انڈین ہسٹری کانگریس میں اے ایم یو کے اسکالرز کا نمایاں کردار

علی گڑھ، 05 جنوری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسکالرز نے 84ویں انڈین ہسٹری کانگریس کے اجلاس میں علمی اور تنظیمی سطح پر اپنی بھرپور موجودگی درج کرائی۔ یہ اجلاس 28 تا 30 دسمبر کیرالہ میں کنّور کے تھالیسّری کے گورنمنٹ برینن کالج میں منعقد ہوا۔ افتتاحی پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ کیرالہ نے نامور مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کو ان کی تاریخ نویسی، تحقیق اور انڈین ہسٹری کانگریس کے لیے تا حیات خدمات کے اعتراف میں باوقار ”راجواڑے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ“ کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔ یہ ایوارڈ ممتاز مؤرخ وشو ناتھ کاشی ناتھ راجواڑے سے منسوب ہے اور اسے ہندوستانی تاریخ کے شعبے کے اعلیٰ ترین اعزازات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اجلاس کے دوران اے ایم یو کے متعدد مؤرخین کو اہم عہدوں کے لیے منتخب یا نامزد کیا گیا۔ پروفیسر عرفان حبیب کو انڈین ہسٹری کانگریس کا نائب صدر منتخب کیا گیا، جبکہ سبکدوش پروفیسر عشرت عالم، سابق سکریٹری پروفیسر سید علی ندیم رضاوی اور ڈاکٹر شمیم اختر کو ایگزیکیٹیو ممبران کی حیثیت سے شامل کیا گیا۔ سبکدوش پروفیسر سید جابر رضا کو میڈیول انڈیا سیکشن کا صدر منتخب کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر عنایت اللہ خاں علیگ کو جوائنٹ سکریٹری مقرر کیا گیا۔

اس کے علاوہ اے ایم یو کے دو درجن سے زائد اساتذہ اور محققین نے مختلف نشستوں میں تحقیقی مقالے پیش کیے اور علمی مباحث میں حصہ لیا۔ ان میں پروفیسر عشرت عالم، ڈاکٹر شمیم اختر، پروفیسر شاداب بانو، ڈاکٹر عرشیہ شفقت، ڈاکٹر فرح عابدین، ڈاکٹر لبنیٰ عرفان، ڈاکٹر گلرخ خان، ڈاکٹر سدھانت اور ڈاکٹر اسرا علوی شامل ہیں۔ ریسرچ اسکالرز میں مس زینب نقوی، مس سحرش ہلال، مسٹر ولایت اور مسٹر مجتبیٰ نے بھی اپنے مقالے پیش کیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande