
نونیت رانا کا ایم آئی ایم اور اویسی پر سخت وار ، پاکستان بھیجنے کا متنازع مطالبہ
امراوتی، 5 جنوری(ہ س)۔
بھارتی سیاست میں جاری لفظی
محاذ آرائی کے دوران بی جے پی لیڈر نونیت رانا نے ایم آئی ایم کے صدر اور رکن پارلیمان
اسدالدین اوویسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بھارتی شہریت منسوخ کر
کے انہیں ملک سے باہرنکال دینا چاہیے، ساتھ ہی ایم آئی ایم پارٹی کی منظوری بھی
ختم کی جانی چاہیے۔ نونیت
رانا نے کہا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے ایک مذہبی شخصیت کے بیان کا حوالہ دے کر کہا
تھا کہ اگر کوئی 19 بچے پیدا کرسکتا ہے تو ہندوؤں کو بھی کم از کم 4 بچے پیدا
کرنے چاہئیں۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اویسی نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ 4
نہیں بلکہ 8 بچے پیدا کریں، ہمیں اس سے کوئی اعتراض نہیں۔ اس
ردعمل کے بعد نونیت رانا نے کہا اویسی کو بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم کہنے میں
جھجھک محسوس ہوتی ہے اور وہ آئینی اقدار پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے
شخص کو اس ملک میں رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے اور اسے پاکستان بھیج دیا جانا چاہیے
تاکہ وہاں کی زمینی حقیقتوں کا اندازہ ہو سکے۔
نونیت
رانا نے دراندازوں کے معاملے پر بھی سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال،
ممبئی، آسام، تلنگانہ اور دہلی میں دراندازوں کی تعداد میں اضافے پر اوویسی کو
بطور رکن پارلیمان کھل کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھارت میں
رہتا ہے تو اسے بھارت ماتا کا احترام کرنا چاہیے اور بھارت ماتا کی جے کہنا چاہیے۔
ہندوستھان
سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے