
مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات میں بلا مقابلہ کامیابیوں کا تنازعہ، ایم این ایس کا عدالت سے رجوع
ممبئی،
5 جنوری(ہ س)۔ مہاراشٹر میں بلدیاتی
انتخابات کے دوران بلا مقابلہ کامیابیوں کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے،
جہاں مہاراشٹر نو نرمان سینا کے رہنما اویناش جا دھو نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضی
داخل کر کے عدالتی نگرانی میں آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
اویناش
جا دھو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں بلدیاتی
کارپوریشن انتخابات کے دوران امیدواروں کے فارم واپس لینے کا عمل فطری یا
رضاکارانہ نہیں تھا، بلکہ دباؤ، دھمکیوں اور غیر قانونی ترغیبات کے ذریعے کرایا گیا
تھا، جس سے آزاد اور منصفانہ انتخابات کا آئینی اصول متاثر ہوا۔
درخواست
میں ان 68 سے زائد نشستوں کا حوالہ دیا گیا ہے جہاں حکمراں اتحاد مہایوتی نے بلا
مقابلہ کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جا دھو نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان
نشستوں کے نتائج اس وقت تک جاری نہ کیے جائیں جب تک عرضی پر حتمی فیصلہ نہیں ہو
جاتا۔
درخواست
میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ 15 جنوری کو ووٹنگ طے ہے، ریاستی الیکشن کمیشن نے
پہلے ہی مقامی حکام سے رپورٹس طلب کر کے یہ جانچنے کی ہدایت دی تھی کہ کہیں کسی امیدوار
کو زبردستی دستبردار تو نہیں کرایا گیا۔ قواعد کے مطابق کمیشن کی منظوری اور حتمی
فیصلے کے بغیر کسی امیدوار کو کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اویناش
جا دھو نے عرضی میں کہا ہے کہ ریاست بھر کی 29 بلدیاتی کارپوریشنوں میں بلا مقابلہ
منتخب قرار دیے گئے تقریباً 70 امیدواروں میں سے 69 معاملات میں خود ریاستی الیکشن
کمیشن نے جانچ کے احکامات جاری کیے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ نامزدگیوں کے
انخلا میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
ایڈووکیٹس
عاصم سارودے اور شریا آوالے کے ذریعے داخل کی گئی اس درخواست میں الزام لگایا گیا
ہے کہ کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود متعلقہ بلدیاتی وارڈوں کے ریٹرننگ افسران
نے بلا مقابلہ نتائج کے اعلان میں عجلت دکھائی۔
ہندوستھان
سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے