بچوں کی قسم، یہ لڑائی عہدوں کی نہیں عزت کی ہے کونسل کے آخری خطاب میں کویتا کا الزام
حیدرآباد، 5 جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ایک ڈرامائی پیش رفت کے دوران کویتا نے اعلان کیا کہ پیر کے روز ان کی تقریر کونسل میں ان کی آخری تقریر ہے۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے اپنی سیاسی جدوجہد، پارٹی کے اندرونی حالات اور اپنے مستقبل
بچوں کی قسم، یہ لڑائی عہدوں کی نہیں عزت کی ہے کونسل کے آخری خطاب میں کویتا کا الزام


حیدرآباد، 5 جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ایک ڈرامائی پیش رفت کے دوران کویتا نے اعلان کیا کہ پیر کے روز ان کی تقریر کونسل میں ان کی آخری تقریر ہے۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے اپنی سیاسی جدوجہد، پارٹی کے اندرونی حالات اور اپنے مستقبل کے منصوبوں پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہیں کر رہیں بلکہ ایک مضبوط طاقت کے طور پر دوبارہ واپس آئیں گی۔کویتا نے کونسل کے چیئرمین سے باقاعدہ طور پر اپنی استعفیٰ منظور کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ خودداری کے ساتھ ایوان سے رخصت ہو رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ان کی سیاسی اننگز ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔اپنی تقریر میں کویتا نے کہا کہ کونسل میں ان کا یہ آخری خطاب ضرور ہے، لیکن سیاسی زندگی کا اختتام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن حالات سے وہ گزری ہیں، انہوں نے انہیں مزید مضبوط بنایا ہے اور وہ مستقبل میں پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ عوامی زندگی میں واپس آئیں گی۔ ان کے ان بیانات نے حیدرآباد اور تلنگانہ کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

کویتا نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) پر سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ پارٹی میں اندرونی جمہوریت اور اخلاقی قیادت کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کا نام بدل کر بی آر ایس رکھنے کے فیصلے سے متفق نہیں تھیں اور سوال اٹھایا کہ قومی سیاست میں جانے سے پارٹی نے تلنگانہ کے لیے آخر کیا حاصل کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مشکل وقت میں پارٹی قیادت ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی، خاص طور پر جب مرکزی ایجنسیاں ان کے خلاف کارروائی کر رہی تھیں۔ کویتا کے مطابق، انہوں نے تین سال تک قانونی لڑائی اکیلے لڑی اور سینئر قیادت کی جانب سے کوئی حمایت نہیں ملی۔

کویتا نے اپنے ایک سخت بیان میں ہریش راؤ پر بدعنوانی کا الزام لگایا اور بی آر ایس کے پارٹی دستور کو “ایک مذاق” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی شفافیت اور اصولوں کے بغیر چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب پارٹی چیف کے خلاف تنقید ہوئی تو سینئر قائدین خاموش کیوں رہے، اور کیا ایسی پارٹی صحیح معنوں میں مؤثر ہو سکتی ہے جو اپنے ہی لیڈر کا دفاع نہ کر سکے۔

کویتا نے انکشاف کیا کہ انہیں پارٹی سے معطل کرتے وقت ان سے کوئی وضاحت بھی طلب نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کسی قسم کے اثاثوں پر کوئی جھگڑا نہیں ہے بلکہ ان کے لیے خودداری سب سے اہم ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا، “میں اپنے دو بیٹوں کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میری لڑائی عہدوں کے لیے نہیں بلکہ عزت و وقار کے لیے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ایس میں کچھ لوگ ذاتی رنجش رکھتے ہیں اور پارٹی میں اب اندرونی جمہوریت باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق، انہوں نے کبھی عہدوں کے لیے سیاست نہیں کی بلکہ حکومت میں بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائی۔ کویتا نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ سدّی پیٹ اور سرسلہ میں تعمیر کردہ کلکٹریٹ عمارتیں بارش میں زیرِ آب آگئیں، تلنگانہ بننے کے بعد بھی بودھن شوگر فیکٹری دوبارہ نہیں کھولی گئی، ریت کی کانکنی میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور متاثرہ کارکنوں کو مالی مدد نہیں دی گئی۔

کویتا نے یاد دلایاکہ وہ تلنگانہ جاگروتی سنستھا کے ذریعے سیاست میں آئیں اور تلنگانہ تحریک میں آزادانہ طور پر کام کیا۔ انہوں نے باتھوکما تہوار کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اپنے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی شناخت زمینی سطح پر محنت کے ذریعے بنائی، نہ کہ پارٹی کی مہربانی سے۔ انہوں نے 3 ستمبر کو چیئرپرسن کے عہدے سے استعفیٰ دینے کو بھی ایک اصولی فیصلہ قرار دیا۔مستقبل کے حوالے سے ایک حیران کن بیان میں کویتا نے کہا کہ بی آر ایس کو کانگریس میں ضم ہو جانا چاہیے کیونکہ زمینی کارکنوں کی آواز پارٹی قیادت تک نہیں پہنچ رہی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے کبھی ٹکٹ یا عہدوں کے لیے منت سماجت نہیں کی اور ہمیشہ پارٹیوں سے بالاتر ہو کر تلنگانہ کے لیے کام کیا۔

اپنی تقریر کے اختتام پر کویتا نے کہا کہ پانی کی آلودگی جیسے مسائل میں سابقہ حکمران بھی ذمہ دار تھے، لیکن موجودہ قیادت بھی انہی غلطیوں کو دہرا رہی ہے۔ ان کی اس الوداعی تقریر نے سیاسی حلقوں میں زبردست بحث چھیڑ دی ہے، اور کئی لوگ اسے سیاست سے رخصتی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی باب کی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande