
سمریدھی یاترا کے تحت گوپال گنج ضلع میں منعقد ’جن سمواد‘ پروگرام میں وزیر اعلیٰ شامل ہوئےپٹنہ، 20 جنوری(ہ س)۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار آج گوپال گنج ضلع کے ہائر سیکنڈر ی اسکول ،برولی میں سمریدھی یاترا کے تحت منعقد جن سمواد پروگرام میں شامل ہوئے ، جن سمواد پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ 24 نومبر 2005 کو پہلی مرتبہ بہار میں این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، تب سے ریاست میں قانون کی حکمرانی ہے اور ہم مستقل طور پر ترقی کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔یاد ہے نہ پہلے کیا حالت تھی ۔ بہت برا حال تھا شام کے بعد لوگ گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماجی میں بہت تنازعہ تھا، ہر روز ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعہ ہوتا تھا۔ تعلیم کا نظام بہت خراب حالت میں تھا۔ بہت کم بچے پڑھتے تھے۔ پہلے علاج کا بھی مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں بہت کم تھیں اور جو تھیں وہ خستہ حال تھیں۔ بجلی کی فراہمی بہت کم جگہوں پر تھی۔ ہم لوگ شروع سے ہی بہار کے ترقیاتی کاموں میں لگے ہیں۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا ماحول نہیں ہے۔ پوری ریاست میں محبت، بھائی چارے اور امن کا ماحول ہے۔ ہندو مسلم تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے سال 2006 سے ہی، قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی گئی ہے۔پہلے تقریبا 8 ہزار قبرستانوں کی گھیرابندی کی گئی ،بعدمیں کچھ اور قبرستانوں کو نشانزد کیا گیا جن کی گھیرا بندی کی جارہی ہے۔سال 2016 کے بعد سے، 60 سال سے زیادہ قدیم ہندو مندروں کوکی گھیرا بندی کی گئی ۔اب تمام شعبوں میں ترقی ہور ہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شروع سے ہی تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ریاست میں بڑے پیمانے پر سڑکوں اور پل ،پلیوں کی تعمیر کرائی گئی ہے ۔ سال 2015 میں سات نشچے کے تحت ہر گھر تک بجلی ،ہر گھر تک نل کا جل ، ہر گھر تک اجابت خانہ اور ٹولوں کو پکی سڑکوں سے جوڑنے کا کا مکمل کیا گیا ہے ۔ سال 2018 میں ہی تمام گھروں کو بجلی پہنچادی گئی ہے ۔ حکومت کے ذریعہ شروع سے ہی بہت کم شرح پر بجلی دی گئی ہے اب تقریبا تمام گھریلوصار فین کو بجلی مفت دی جارہی ہے ۔ سال 2020 میں سات نشجے 2 کے تحت تما منصوبوں پر بہت کام ہوا ہے اور جو بھی کام باقی ہیں انہیں جلد ہی مکمل کیا جائے گا ۔ سات نشچے 2 کے تحت ہی نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریاں اور 10 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک 10 لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں اور 40 لاکھ کو روزگار دیاجا چکا ہے۔ مجموعی طور پر 50 لاکھ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں 1 کروڑ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کرنے کا ہدف ہے۔ حکومت نے اپنے آغاز سے ہی سماجی کے تمام طبقات کی ترقی کے لیے کام کیا ہے۔ ہندو، مسلم، اعلیٰ ذات، پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت ، مہادلیت سبھی کے لیے کام کیا گیا ہے۔ تمام بزرگوں، معذوروں اور بیوہ خواتین کے لیے پنشن کی رقم 400 روپے سے بڑھا کر 1100 روپے کر دی گئی ہے جس سے 1کروڑ 14 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ جولائی 2024 کے بجٹ میں بہار کو خصوصی مالی مدد کی شکل میں سڑک ، صنعت ، ہیلتھ ، سیاحت ، سیلاب پر قابو پانے کے لیے کثیر رقم دینے کا اعلان کیا گیا ۔ فروری 2025 کے بجٹ میں بہار میںمکھانا بورڈ ، ایئر پورٹ کا قیام ، مغربی کوسی نہر کے لیے مالی مدد وغیرہ کا اعلان کیا گیا ۔ سال 2018 میں ملک کی کچھ ریاستوں میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمس کا انعقاد ہوا تھا ،2025 میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمس کا انعقادبہار میں ہوا جو فخر کی بات ہے ۔ اس سب کے لیے جناب نریندر مودی جی کو سلام کر تے ہیں ۔جناب نریندر مودی جی کئی مرتبہ بہار آئے ہیں اور ان کے ذریعہ ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد ،افتتاح ، کیا گیا ہے ۔ ان تمام منصوبوں پر اب تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہار میں آئندہ 5برسوں (2025سے 2030) میں کئی کام کرائے جائیں گے ۔حکومت کے ذریعہ پہلی مدت2005-2010، دوسرے کام کی مدت میں2010-2015، تیسری مدت 2015-2020 اور چوتھی مدت 2020-2025کو ملا کر ہر شعبے میں کام ہواہے، چاہے وہ تعلیم، صحت، سڑکیں، بجلی ہو یا زراعت۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ترقی کی رفتار اب مزید تیز کی جائے گی۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔آئندہ 5برسوں کے لیے سات نشچے 3 کو نافد کر دیا گیا ہے۔ ''دوگنا روزگار، دوگنی آمدنی'' کے تحت، ریاست کی فی کس اوسط آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔اوراس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ خواتین روزگاراسکیم کے تحت ہر خاتون کو 10 ہزارروپے دیے گئے ہیں۔ جن کا روزگار بہتر ہو گا انہیں 2 لاکھ روپے تک کی امداد دی جائے گی۔ اگلے 5 برسوں میں نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک نیا یوتھ ایمپلائمنٹ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔ ''خوشحال صنعت، بااختیار بہار'' نشچے کے تحت اگلے پانچ برسوں میں صنعتیں لگانے پر پورا زور دیا جائے گا۔ تمام اضلاع میں انڈسٹریل زونز قائم کیے جائیں گے۔ نئی بڑی صنعتوں کے لیے مفت زمین اور گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ پرانی، بند شوگر ملیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔’ زرعی ترقی ریاست کے خوشحالی ‘پروگرام کے تحت زرعی ترقی کے لیے پہلے ہی کافی کام کیا جا چکا ہے۔ اس کام کو مزید تیز کرنے کے لیے بہار مارکیٹنگ پروموشن کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ مکھانہ کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ ڈیری اور ماہی پروری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ’ اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل ‘کے تحت ریاست میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ہر بلاک میں آدرش اسکول اور ڈگری کالج کھولے جائیں گے ۔ ایک نئے ایجو کیشن سیٹی کی تعمیر کی جائے گی ۔’ آسان صحت ،محفوظ زندگی‘ کے تحت طبی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضلع اور بلاک کے اسپتالوں کو خصوصی طبی سینٹر بنا یا جائے گا ۔ ریاست میں مشہور پرائیوٹ اسپتالوں کے قیام کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ سرکاری ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس پر روک لگانے کی پالیسی لائی جائے گی ۔ ’مضبوط بنیاد ،جدید توسیع‘ کے تحت بنیادی انفرا اسٹرکچر کو بہتر کیا جائے گا ۔جس میں شہروں کی ترقی اور نئے منتخب شہروں کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ 5نئے ایکسپریس وے سڑکوں کی تعمیر اور دیہی سڑکوں کو 2لین چوڑا کیا جائے گا ۔ تمام خواہشمند لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر سولرپینل لگائے جائیں گے ۔ بہار میں سیاحت اور ایکوٹوریزم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔پٹنہ میں اسپورٹی سیٹی کا فروغ اور کھلاڑیوں کو سرکاری نوکری دی جائے کی ۔’ سب کا سمان ،زندگی آسان ‘کے تحت جدید تکنیکی اور اچھے انتظام کے توسط سے ریاست کے تمام شہریوں کی زندگی کو آسان بنا یا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری ریاست مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ ان دنوں کام میں مزید تیزی آئی ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں مزید کام شروع کیے جائیں گے، جو بہار کو نمایاں طور پر آگے بڑھائیں گے۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ بہار مزید ترقی کرے گا اور ملک کی اعلیٰ ریاستوں میں سے ایک بن جائے گا، جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan