تمل ناڈو اسمبلی کا اجلاس شروع، گورنر نے خطاب کا بائیکاٹ کیا
چنئی، 20 جنوری (ہ س)۔ تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی کا 2026 کاپہلا اجلاس آج شروع ہوا، لیکن اجلاس کے پہلے ہی دن گورنر اور حکومت کے درمیان تنازعہ دیکھنے میں آیا۔ گورنر آر این روی نے ایک بار پھر اپنا خطاب نہیں پڑھا اور اسمبلی کی کارروائی چھوڑ کر چلے گئے ۔
TN-ASSEMBLY-SESSION-BEGINS-GOVERNOR-BOYCOTTS-ADDRE


چنئی، 20 جنوری (ہ س)۔ تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی کا 2026 کاپہلا اجلاس آج شروع ہوا، لیکن اجلاس کے پہلے ہی دن گورنر اور حکومت کے درمیان تنازعہ دیکھنے میں آیا۔ گورنر آر این روی نے ایک بار پھر اپنا خطاب نہیں پڑھا اور اسمبلی کی کارروائی چھوڑ کر چلے گئے ۔ گورنر نے ایوان میں قومی ترانے کی بے عزتی اوربار -بار مائک بند کئے جانے کا الزام عائد کیا۔

لوک بھون کی طرف سے جاری کردہ وضاحت میں کہا گیا ہے کہ گورنر کی تقریر میں کئی بے بنیاد الزامات اور حقائق میں غلطیاں تھیں۔ خاص طور پر 12 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق معلومات گمراہ کن اور غلط تھیں۔ اسی لیے گورنر نے خطاب کا بائیکاٹ کیا۔گورنر کے باہر جانے کے بعد، آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین اسمبلی نے بھی واک آو¿ٹ کیا۔

ادھر، گورنر کے ایوان سے جانے کے بعد، وزیر اعلی ایم کے ا سٹالن نے ایوان میں گورنر کے خلاف تحریک تردید پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی قوانین کے مطابق ، حکومت کی طرف سے فراہم کردہ تقریر کی کاپی میں کسی طرح کی تبدیلی کا اختیار گورنر کو نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ملک میں گورنر کا عہدہ ہی ختم کر دینا چاہیے۔

اسمبلی اسپیکر اپاوو نے بھی واضح کیا کہ وازتھو قواعد کے مطابقہی بجایا گیا اور یہ حقیقت واضح کئے جانے کے بعد بھی گورنر نے واک آو¿ٹ کیا۔

اس کے بعد وزیر اعلیٰ اسٹالن نے کہا کہ گورنر نے عوامی نمائندوں کے ایوان کی توہین کی ہے۔ مستقبل میں دوسری ریاستوں کی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئین میں ترمیم کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ گورنر کے خطاب سے ہی ایوان کو شروع کرنے کی مجبوری ختم ہو۔

ایوان نے ایک قرارداد منظور کرکے گورنر کے خطاب کو پڑھا ہواتسلیم کیا گیا۔ اسپیکر نے کہا کہ کارروائی میں صرف گورنر کا خطاب درج کیا جائے گااور ا ٓج کے دیگر واقعات کو ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے باوجود، اے آئی اے ڈی ایم کے اور بی جے پی کے ایم ایل ایز نے باہر جاکر نعرے لگائے اور اسمبلی کے احاطے میں ہنگامہ کیا۔ انہوں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے الزامات عائد کئے۔

اسپیکر کی جانب سے ایوان میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کے باوجود ہنگامہ آرائی جاری رہی جس کے بعد اپوزیشن اراکین اسمبلی نے ایوان سے واک آو¿ٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے قومی ترانہ نہ بجانے کی وجہ سے گزشتہ تین برسوں سے گورنر خطاب کا مسلسل بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ اس سال بھی، انہوں نے پہلے قومی ترانہ بجانے پر اصرار کیا حالانکہ اسمبلی کے قوانین کے مطابق پہلے تمل تائے وازتھو بجایا گیا۔

آنے والے اسمبلی انتخابات کے مدنظر اسمبلی کے اس سیشن کو سیاسی نقطہ نظر سے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande