
نئی دہلی، 20 جنوری (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نئے قومی صدر نتن نوین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے خود کو پارٹی کا کارکن بتایا اور کہا کہ جب پارٹی کے معاملات کی بات آتی ہے تو نتن نوین ان کے باس ہیں۔
نتن نوین نے دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب میں پارٹی صدر کا عہدہ سنبھالا۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، سبکدوش ہونے والے بی جے پی صدر جے پی نڈا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور پارٹی کے سینئر رہنما اور کارکنان موجود تھے۔
پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ”میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کارکن ہوں اور یہ میرا سب سے بڑا فخر ہے۔جب پارٹی کی بات آتی ہے تو نتن نوین جی میرے باس ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی میں عہدے بدلتے ہیں، لیکن اصول نہیں بدلتے، قیادت بدلتی ہے لیکن سمت نہیں بدلتی۔ بی جے پی ایک خاندان ہے، جہاں ممبرشپ (رکنیت) سے زیادہ ریلیشن شپ (رشتوں) کی اہمیت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نتن نوین کی ذمہ داری صرف بی جے پی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں تمام اتحادیوں کے درمیان تال میل برقرار رکھنا بھی ان کی بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اپنےجواں جوش اور تجربے کے ساتھ نتن نوین پارٹی کی وراثت کو آگے بڑھائیں گے۔
سنگٹھن پرو کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ پارٹی کے آئین کی روح کے مطابق صد فیصد جمہوری عمل کے تحت یہ انتخابات اختتام پذیر ہوئے ہیں۔ یہ بی جے پی کے جمہوری عقیدے، تنظیمی نظم و ضبط اور کارکنان پر مبنی نقطہ نظر کی علامت ہے۔ انہوں نے اس عمل کو کامیاب بنانے پر ملک بھر کے کارکنوں کو مبارکباد دی۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی ایک اخلاق ہے اور زندگی بھر کی ذمہ داری کا احساس لے کر چلنے والی تنظیم ہے۔ انہوں نے کہا” ہمارے یہاں عہدے کی ذمہ داری ایک بندوبست ہے اور کام کی ذمہ داری زندگی بھر کی ذمہ داری ہے ۔“ وزیر اعظم نے سابق بی جے پی صدور – اٹل بہاری واجپئی، ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، وینکیا نائیڈو، نتن گڈکری، راج ناتھ سنگھ، امت شاہ اور جے پی نڈا کے تعاون کو یاد کرتے ہوئے ان کو سلام کیا۔
اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تین بار وزیر اعظم بننا اور 25 سال تک حکومت کی قیادت کرنا اہم ہے، لیکن اس سے بھی بڑا فخر ان کے لئے بی جے پی کا کارکن ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتن نوین ا س نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے ریڈیو سے لے کر مصنوعی ذہانت تککا دور دیکھا ہے۔ ان کے پاس نوجوان توانائی اور تجربہ بھی ہے۔
مودی نے کہا کہ 21ویں صدی کے اگلے 25 سال ہندوستان کے لیے بہت اہم ہیں اور یہی وہ دور ہے جب ایک وکست بھارت کی تعمیر ہونی ہے۔ اس دور کے آغاز میں نتن نوین بی جے پی کی وراثت کو آگے بڑھائیں گے۔
بی جے پی کی انتخابی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عام طور پر زیادہعرصے تک اقتدار میں بنے رہنا مشکل ہوتا ہے لیکن بی جے پی نے اس تصور کو توڑ ا ہے۔ گجرات، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں بی جے پی نے پہلے سے بھی زیادہ اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا اسٹرائیک ریٹ بے مثال ہے۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی نے اقتدار کو خوشی کا نہیں، خدمت کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد مسلسل مضبوط ہوا ہے۔ گزشتہ 11 برسوں میں، بی جے پی نے پہلی بار ہریانہ، آسام، تریپورہ اور اڈیشہ میں اپنے طور پر حکومتیں بنائی ہیں۔ مغربی بنگال اور تلنگانہ میں بی جے پی ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری ہے۔
بلدیاتی اداروں میں پارٹی کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی-این ڈی اے نے مہاراشٹر کے 29 بڑے شہروں میں سے 25 میں عوامی حمایت حاصل کی ہے اور کل کونسلروں میں سے تقریباً 50 فیصد بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیرالہ میں، بی جے پی کے پاس بھی تقریباً 100 کونسلر ہیں اور ترواننت پورم میں، بی جے پی نے 45 سال بعد میئر کا عہدہ جیتا۔
وزیر اعظم نے حکومت کی اسکیموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی سماج کے سب سے پسماندہ طبقات کے لئے پی ایم-جن من یوجنا شروع کی ، اجولا یوجنا سے بہنوں کو دھوئیں سے آزادی ملی، لکھپتی دیدی ابھیان نے دیہی خواتین کو خود انحصار بنایا اور جل جیون مشن کے تحت کروڑوں گھروں کو نل کا پانی فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے سماجی انصاف کو صحیح معنوں میں نافذ کیا ہے اور غریبوں کی فلاحی اسکیموں کو فائلوں سے نکال کر غریبوں کے گھروں تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا ترقیاتی ماڈل استحکام، اچھی حکمرانی اور حساسیت پر مبنی ہے۔
دراندازی کو ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بتاتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک دراندازوں کو قبول نہیں کرتا اور ہندوستان بھی اپنے غریبوں اور نوجوانوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے دراندازوں کو تحفظ دینے والی سیاسی جماعتوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جانا چاہیے۔
کانگریس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اپنے زوال کا جائزہ نہیں لیتی کیونکہ اس سے ایک خاندان پر سوالات اٹھیں گے ۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں سے کانگریس پارٹی کی غلطیوں کونہ دہرانے کی اپیل کی۔
آخر میں، وزیر اعظم نے ایک بار پھر نئے صدر نتن نوین کو نیک خواہشات پیش کیں اور کہا کہ ”خود سے بڑی پارٹی اور پارٹی سے بڑا ملک“یہی بی جے پی کے ہر کارکن کی زندگی کا اصول ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد