
نئی دہلی، 20 جنوری (ہ س)۔ چھوٹے کاروباریوں، ایم ایس ایم ای، کاریگروں اور اسٹارٹ اپ کو اب ڈاک خانہ کے ذریعے بیرون ملک سامان بھیجنے پر حکومت کی طرف سے ڈیوٹی ڈرا بیک، ٹیکس کی واپسی اور دیگر رعایتوں کا فائدہ ملے گا۔ اس سے ان کے اخراجات کم ہوں گے، تیزی سے ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ محکمہ ڈاک نے یہ سہولت 15 جنوری کو نافذ کر دی ۔
وزارت مواصلات کے مطابق، اس اقدام سے خاص طور پر چھوٹے برآمد کنندگان، کاریگروں اور اسٹارٹ اپس کو فائدہ پہنچے گا،کیونکہ وہ کم قیمت والے مال بیرون ملک بھیجنے کے لیے پوسٹل نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں۔ جب کہ آئی جی ایس ٹی ریفنڈز کی پہلے سے سہولت ، یہ نئے فوائد لاگت کو کم کریں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ کاروبار تیزی سے اپنے فنڈز وصول کریں۔
ملک بھر میں 1,013 پوسٹ آفس ایکسپورٹ سینٹرز (پی او ای ) کام کر رہے ہیں۔ وہ سامان کی بکنگ، ڈیجیٹل کاغذی کارروائی اور کسٹم پروسیسنگ سب کو ایک جگہ پر سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے دور دراز علاقوں کے لوگ بھی آسانی سے اپنا سامان بیرون ملک بھیج سکتے ہیں۔
محکمہ ڈاک نے نظام میں ضروری تبدیلیاں کی ہیں اور برآمد کنندگان اور عہدیداروں کے کام کو آسانی سے چلانے کے لیے قواعد و ضوابط کو واضح کیا ہے۔ یہ اقدام حکومت کی ”کاروبار کرنے میں آسانی“ کی پالیسی اور سرحد پار ای کامرس کے فروغ کے مطابق ہے۔
انڈیا پوسٹ محکملہ ایک ہی جگہ سے پوری سہولت فراہم کرتا ہے ۔ سامان اٹھانے سے لے کر کاغذی کارروائی، آن لائن ادائیگیوں، کسٹم کلیئرنس اور ٹریکنگ تک تمام خدمات کے لیے ون اسٹاپ شاپ پیش کرتا ہے۔ انٹرنیشنل ٹریکڈ پیکٹ سروس جیسی خدمات، 135 ممالک میں دستیاب ہیں، چھوٹے کاروباروں کے لیے سستی اور قابل اعتماد ہیں۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد