
۔ریاستی وزیر داخلہ پرمیشورا نے صحافیوں سے بات کی
بنگلورو، 20 جنوری (ہ س)۔ ریاستی وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشورا نے کرناٹک اسٹیٹ سول رائٹس انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ڈی جی پی رام چندر راؤ سے متعلق کیس پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے واقعات سے کسی کو بھی احترام نہیں ملتا، خواہ وہ کتنے ہی بڑے یا اعلیٰ عہدے پرکیوں نہ ہو۔ ان کے خلاف بنا کسی ہچکچاہٹ کے سخت کارروائی کی جائے گی۔
منگل کو بنگلورو میں اپنی رہائش گاہ کے قریب میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزیر داخلہ پرمیشورا نے کہاکہ کل میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ مجھے دوپہر کے کھانے کے دوران اس کے بارے میں معلوم ہوا۔ میں نے فوری طور پر عہدیداروں سے جانچ پڑتال کی اور وزیر اعلیٰ سے اس پر تبادلہ خیال کیا۔ نہ صرف محکمہ پولیس بلکہ کوئی بھی محکمہ اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کرسکتا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے بھی اس واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ معاملہ کا علم ہوتے ہی انہوں نے ڈی جی پی راؤ کو معطل کرکے تحقیقات کا حکم دیا۔میں بھی، خواہ میں کتنا ہی سینئر افسر کیوں نہ ہوں،یہ محسوس کرتا ہوں کہ کاروائی ضروری تھا۔ ایسے مشکل حالات میں حکومت کو سخت موقف اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے میں نے کل ان سے ملاقات نہیں کی۔
رام چندر راو¿ کے اس دعوے پر کہ الزامات جھوٹے تھے، پرمیشورا نے کہا،”تحقیقات میں سچائی سامنے آ جائے گی۔ ان واقعات سے کسی کی بھی ساکھ کو ٹھیس پہنچیہے۔ اس لیے انہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔“
رام چندر راو¿ کی گرفتاری کے بی جے پی کے مطالبے کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا، ”فوری طور پر ضروری کارروائی کی گئی ہے۔ تحقیقات کے بعد کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ انہیں ملازمت سے برخاست بھی کیا جائے۔ ایک اعلیٰ افسر ہونے کے باوجود بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کارروائی کی گئی ہے۔ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔“
اس دوران، رسلیلا کیس کے تناظر میں، ڈی آر آئی حکام نے رام چندر راو¿ کی بیٹی رانیا راؤ کو غیر قانونی سونے کی اسمگلنگ کیس کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ اس سے قبل اسی معاملے میں رام چندر راؤ کے خلاف ایک سرکاری گاڑی کا غلط استعمال کرنے پر چارج میمو جاری کیا گیا تھا۔ رانیا راؤ پر سرکاری گاڑی کا غلط استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔
رسلیلا کیس کی محکمانہ انکوائری کا پہلے ہی حکم دیا جا چکا ہے اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سلیم نے سرکاری حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ان الزامات کے تناظر میں کی گئی ہے کہ رام چندر راؤ نے آئی جی پی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے دفتر میں یونیفارم پہنکر غیر مہذب سلوک کیا۔
ڈی آر آئی حکام اس کیس کے سلسلے میں پہلے رام چندر راؤ اور رانیا راؤ سے بڑے پیمانے پر پوچھ گچھ کر چکے ہیں۔ متعدد پہلوؤں کی تفصیل سے چھان بین کی گئی، جن میں رانیا راؤ اور رام چندر راؤ کے درمیان تعلقات، آیا انہیں سونے کی اسمگلنگ میں مدد ملی تھی، پروٹوکول کے غلط استعمال کے الزامات، اور یہ حقیقت کہ محض دو ماہ میں 20 سے زائد مرتبہ دبئی کا سفر کیا تھا، شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد