
کولکاتا، 20 جنوری (ہ س)۔ انڈین کوسٹ گارڈ نے مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع میں خلیج بنگال میں بین الاقوامی سمندری حدود کی خلاف ورزی کر کے ہندوستانی آبی حدود میں داخل ہونے کے الزام میں 24 بنگلہ دیشی ماہی گیروں کو گرفتار کیا۔ بعد میں سبھی کو مغربی بنگال پولیس کی کوسٹل برانچ کے حوالے کر دیا گیا۔
ہندوستانی وزارت دفاع کے مشرقی کمان ہیڈ کوارٹر سے منگل کی صبح جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیر کی علی الصبح گشت کے دوران کوسٹ گارڈ کے ایک جہاز نے ہندوستانی آبی علاقے کے اندر ایک بنگلہ دیشی مچھلی پکڑنے والے ٹرالر کو دیکھا۔ اس کے بعد کوسٹ گارڈ کے جہاز نے ٹرالر کا پیچھا کر کے اسے ہندوستانی آبی حدود کے اندر ہی پکڑ لیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد پیر کی دوپہر ماہی گیروں کو فریزر گنج کوسٹل پولیس تھانے کے حوالے کر دیا گیا۔
پوچھ گچھ میں ماہی گیروں نے دعویٰ کیا کہ گھنے کہرے کے سبب وہ لاعلمی میں ہندوستانی آبی حدود میں داخل ہو گئے۔ حالانکہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پتہ لگانے کے لیے آگے کی پوچھ گچھ جاری ہے کہ دراندازی غلطی سے ہوئی یا اس کے پیچھے کوئی دیگر مقصد تھا۔ گرفتار ماہی گیر اپنی شناخت سے متعلق کوئی قانونی دستاویز بھی پیش نہیں کر سکے۔
ایک ضلع پولیس افسر نے بتایا کہ بین الاقوامی سمندری حدود کی غیر قانونی خلاف ورزی کر کے ہندوستانی آبی حدود میں داخل ہونے کے الزام میں سبھی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں آج (منگل) کو ضلع عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ حال کے مہینوں میں انڈین کوسٹ گارڈ نے غیر قانونی طور پر ہندوستانی آبی علاقے میں داخل ہونے کے الزام میں 100 سے زیادہ بنگلہ دیشی ماہی گیروں کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے کچھ کو بعد میں رہا کیا گیا، جبکہ دیگر کے معاملات کی سماعت جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے کاک دیپ عدالت میں جاری ہے۔
اس سے پہلے 18 دسمبر کو 35 بنگلہ دیشی ماہی گیروں کو گرفتار کر کے ان کے دو ٹرالر ضبط کیے گئے تھے۔ وہیں 15 دسمبر کو ایک بنگلہ دیشی بحریہ کے جہاز کے ذریعے ہندوستانی آبی حدود میں داخلے کے دوران کاک دیپ کے ماہی گیروں کے ایک ٹرالر سے ٹکر کے واقعے میں 11 ماہی گیر بال بال بچ گئے تھے، جبکہ پانچ دیگر لاپتہ ہو گئے تھے۔ پیر کو ڈوبے ہوئے ٹرالر کو کاک دیپ کے موئنا پاڑہ گھاٹ پر لایا گیا۔
پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں گزشتہ سال سے جاری سیاسی بدامنی کے پیش نظر جنوبی 24 پرگنہ ضلع سمیت مغربی بنگال کے بین الاقوامی سمندری سرحدی علاقوں میں انڈین کوسٹ گارڈ اور ریاستی پولیس کی کوسٹل یونٹ کی جانب سے نگرانی اور چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن