موسیٰ ندی اب دریا نہیں رہا، سیوریج پلانٹس بن چکے ہیں: اکبرالدین اویسی
حیدرآباد، 2 جنوری (ہ س)۔ ایم ایل اے اکبرالدین اویسی نے موسیٰ ندی کی صفائی (موسیٰ پروجیکٹ) کے نام پرغریبوں کی زندگیوں کو متاثرنہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن موسی ندی کی صفائی پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کانگریس حک
موسیٰ ندی اب دریا نہیں رہے، سیوریج پلانٹس بن چکے ہیں: اکبرالدین اویسی


حیدرآباد، 2 جنوری (ہ س)۔ ایم ایل اے اکبرالدین اویسی نے موسیٰ ندی کی صفائی (موسیٰ پروجیکٹ) کے نام پرغریبوں کی زندگیوں کو متاثرنہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن موسی ندی کی صفائی پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کانگریس حکومت سے سوال کیا کہ آخریہ صفائی کہاں سے کہاں تک کی جائے گی۔

اکبرالدین اویسی نے کہا کہ کیا موسیٰ کی صفائی وقارآباد سے شروع کی جائے گی یا درمیان سے؟ حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ وقارآباد سے گنڈی پیٹ تک کیا منصوبے ہیں۔انہوں نے عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے کیچمنٹ ایریا کے بارے میں بھی تفصیلات طلب کیں۔انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر آلودگی کے لحاظ سے موسیٰ ندی آٹھویں نمبر پر ہے۔ اکبرالدین اویسی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ اورعیسیٰ اب دریا نہیں رہے بلکہ سیوریج پلانٹس بن چکے ہیں، کیونکہ شہر کا سارا گندا پانی موسیٰ ندی میں ہی جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گنڈی پیٹ جھیل میں بھی گندہ پانی شامل ہو رہا ہے، جو تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہائیوں قبل تعمیر کیے گئے عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں جمع شدہ پودوں کو نکال کر ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھائی جائے۔ اگر ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھے تو گوداوری کا پانی بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔اکبرالدین اویسی نے چارمینار کے قریب تین سال قبل شروع کیے گئے پیدل چلنے والوں کے منصوبے (پیڈسٹرین پروجیکٹ) پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اس کا کیا ہوا اور وہ منصوبہ اب تک مکمل کیوں نہیں ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande