
اورنگ آباد ، 2 جنوری(ہ س)۔
مجلس اتحاد المسلمین کو اورنگ آباد میں اس وقت
انتشار کا شکار ہوچکی ہے۔ اور ایم آئیی ایم کے کئی سابقہ کارپوریٹرس، جنھیں اس بار
مجلس کی جانب سے ٹکٹ نہیں دیا گیا وہ مجلس کے خلاف میدان میں ہیں۔
کارپریشن
میں قائد حزب اختلاف اور عارف کالونی کے سابق کارپوریٹر اور پارٹی کے سینئر رہنما
ضمیر قادری کو بھی پارٹی کی جانب سے ٹکٹ
نہیں دیا گیا تھا ۔ تاہم انھوں نے عارف کالونی وارذ سے بطور آزاد امیدوار فارم داخل کیا تھا۔ تاہم آج
انھوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ انھوں نے اپنا فارم واپس لے لیا ہے۔
ضمیر
قادری نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا کہ گزشتہ 11 برسوں میں انہوں نے عارف
کالونی، ہلال کالونی، جلال کالونی اور آس پاس کے علاقوں میں بلا تفریق عوامی خدمت
انجام دی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
انہوں
نے کہا کہ پانی کی لائنوں کی تنصیب، سڑکوں کی تعمیر، اسپتال کا قیام اور شادی خانہ
جیسے منصوبے ان کے دور کی نمایاں کامیابیاں رہیں، مگر موجودہ بلدی انتخابات میں پینل
سیاست اور 51 ہزار سے زائد ووٹروں والے وارڈ میں 15 سے 20 ہزار ووٹ حاصل کرنے کی
عملی مشکلات کے ساتھ ساتھ مالی مجبوریوں کے باعث انہوں نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے
کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ضمیر
قادری نے بیرسٹر اسد الدین اویسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کے تعاون سے
انہیں پہلے کارپوریٹر اور پھر قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر عوام کی خدمت کا موقع
ملا۔ ساتھ ہی انہوں نے مجلس کے ریاستی صدر امتیاز جلیل کے رویّے پر ناراضی ظاہر
کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے باوجود انہیں مضبوط پینل اور مناسب سیاسی تعاون
نہیں ملا، جبکہ کانگریس نے مکمل پینل کھڑا کر دیا ہے، جس کے سبب محدود امیدواروں
کے ساتھ انتخاب جیتنا ممکن نہیں رہا۔
انہوں
نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا فیصلہ کسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں،
انتخابی حساب کتاب اور مالی صورتحال کو دیکھتے ہوئے خود لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا
کہ شادی خانہ کا بجٹ منظور ہو چکا ہے اور اس پر کام جاری ہے، جو آئندہ ایک دو ماہ
میں تکمیل کے مرحلے میں داخل ہوگا، اور آنے والا نمائندہ اس کا افتتاح کرے گا، مگر
شہر کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اس کی بنیاد کس نے رکھی تھی۔
ضمیر
قادری نے کہا کہ وہ گرین زون اور دریا کنارے بستیوں کے تحفظ کے اپنے منصوبے مکمل
نہ کر پانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، تاہم امید رکھتے ہیں کہ آئندہ کوئی باصلاحیت
اور دیانتدار کارپوریٹر ان خوابوں کو حقیقت میں بدلے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ
جلد ہی عارف کالونی میں ایسے امیدوار کی حمایت کریں گے جو اہل بھی ہو اور عوامی
خدمت کا جذبہ بھی رکھتا ہو، اور اس حوالے سے وہ خود عوام کے درمیان جا کر اپنا
موقف واضح کریں گے۔
انہوں
نے کہا کہ عارف کالونی، ہلال کالونی اور دلرس کے عوام نے انہیں جو محبت اور اعتماد
دیا، وہ ان کیلئے زندگی بھر کا سرمایہ ہے۔ اگرچہ وہ نمائندگی کی ذمہ داری سے پیچھے
ہٹ رہے ہیں، مگر ان علاقوں سے ان کا رشتہ اور رابطہ ہمیشہ قائم رہے گا، اور انہیں
عمر بھر اس بات کا افسوس رہے گا کہ وہ دوبارہ عوام کی قیادت نہ کر سکے۔
ہندوستھان
سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے