
حیدرآباد، 2 جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان پانی کے تنازعات جان بوجھ کر کھڑے کر رہے ہیں تاکہ اپنی جماعت بھارت راشٹریہ سمیتی (بی آر ایس) کو سیاسی طور پر زندہ رکھا جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کے سی آر علاقائی جذبات کو بھڑکا کر اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کا نام گھسیٹ کر کانگریس حکومت کے خلاف جھوٹی مہم چلا رہے ہیں، تاکہ بی آر ایس کی انتخابی شکستوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ریونت ریڈی نے یہ بات پرجا بھون میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کہی، جہاں آبپاشی کے وزیر اتم کمار ریڈی نے 2014 سے 2023 تک کے آبپاشی منصوبوں اور دریائی پانی کے معاملات پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کی۔ اس اجلاس کا مقصد اسمبلی میں بی آر ایس کے حملوں کا ٹھوس حقائق اور دستاویزات کے ساتھ جواب دیناتھا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریکارڈز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ ریاست کے آخری وزیر اعلیٰ کیرن کمار ریڈی کے دور کے مقابلے میں کے سی آر اور ہریش راؤ کے دور میں تلنگانہ کے آبپاشی شعبے کے ساتھ زیادہ ناانصافی کی گئی۔ انہوں نے پلامورو۔رنگا ریڈی آبپاشی منصوبے کو جُرالا کے بجائے سری سیلم بیک واٹرس سے جوڑنے کے فیصلے کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا۔ریونت ریڈی کے مطابق متحدہ آندھرا پردیش کو کرشنا ندی کے 811 ٹی ایم سی پانی کی منظوری حاصل تھی۔ ریاستوں کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش کو 512 ٹی ایم سی اور تلنگانہ کو 299 ٹی ایم سی دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کے سی آر نے دستاویزات پر دستخط کر کے صرف 299 ٹی ایم سی پر رضامندی ظاہر کی، حالانکہ کیچمنٹ ایریا کی بنیاد پر تلنگانہ کو 71 سے 79 فیصد پانی ملنا چاہیے تھا۔ ان کے بقول یہ فیصلہ جنوبی تلنگانہ کے لیے مہلک ثابت ہوا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پلامورو۔رنگا ریڈی منصوبے کو سری سیلم منتقل کرنے سے آندھرا پردیش کو روزانہ 13.37 ٹی ایم سی سے زائد پانی موڑنے کا موقع ملا، جبکہ تلنگانہ صرف 0.25 ٹی ایم سی ہی استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس سنگین صورتحال کی ذمہ داری کے سی آر کے فیصلوں پر عائد کی۔ریونت ریڈی نے مزید الزام لگایا کہ کے سی آر حکومت نے سات برس تک ڈی پی آر جمع نہیں کرایا، اس کے باوجود 27 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور ماحولیاتی منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی۔ جب سپریم کورٹ میں مقدمات دائر ہوئے تو حکومت نے حلف نامہ داخل کر کے کہا کہ یہ محض پینے کے پانی کا منصوبہ ہے، جس کے تحت صرف 7.15 ٹی ایم سی کی اجازت حاصل کی گئی۔ ان کے مطابق اس پورے عمل میں ریاستی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر پمپ اور لفٹ کنٹریکٹرس کو فائدہ پہنچایا گیا۔وزیر اعلیٰ نے کے سی آر پر الزام لگایا کہ وہ اسمبلی میں آنے سے اس لیے گریز کر رہے ہیں کہ کہیں آبپاشی منصوبوں میں مبینہ کمیشن اور فنڈز کے غلط استعمال پر سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کے سی آر کو اسمبلی میں آ کر بحث میں حصہ لینے کا چیلنج دیا اور کہا کہ کانگریس حکومت تمام حقائق اور دستاویزات ایوان کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہے۔ریونت ریڈی نے کہا کہ موجودہ حکومت تلنگانہ کے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کیچمنٹ ایریا کی بنیاد پر 79 فیصد پانی تلنگانہ اور 21 فیصد آندھرا پردیش کو دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت کی پالیسی میں کوئی خامی ہے تو کے سی آر اسمبلی میں آ کر اس کی نشاندہی کریں، کیونکہ تلنگانہ کے عوام کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق