ہماری ثقافت اور فطرت کی جڑیں ہمیشہ مضبوط رہنی چاہیئں: وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا
نئی دہلی، 02 جنوری (ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو کہا کہ ترقی اورپیش رفت ہماری ترجیح ہے، لیکن ہماری ثقافت اور فطرت کی جڑیں ہمیشہ مضبوط رہنی چاہیئں۔مہمان خصوصی کے طور پر موجود وزیر اعلی ریکھا گپتا نے یہ بیان آج دہلی کے میجر دھیان چ
Delhi-Cultural-Event-Shabdotsav


نئی دہلی، 02 جنوری (ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو کہا کہ ترقی اورپیش رفت ہماری ترجیح ہے، لیکن ہماری ثقافت اور فطرت کی جڑیں ہمیشہ مضبوط رہنی چاہیئں۔مہمان خصوصی کے طور پر موجود وزیر اعلی ریکھا گپتا نے یہ بیان آج دہلی کے میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں تین روزہ ’’دہلی شبدتسو2026‘‘کے افتتاح کے موقع پر دیا۔ اس تقریب کا اہتمام ریاستی حکومت کے محکمہ فن، ثقافت اور الثنہ اور سروچی پرکاشن نے کیا ہے۔ اس کا مقصد ہندوستانیت، ثقافت اور ادب کو اکٹھا کرنا ہے۔

اس موقع پر ریکھا گپتا مہمان خصوصی کے طور پر جبکہ مہمان اعزازی ثقافت اور سیاحت کے وزیر کپل مشرا، مرکزی وزیر مملکت برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز ہرش ملہوترا، آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل آمبیکر، دہلی شبدوتسو کے کوآرڈینیٹر ہرش وردھن ترپاٹھی اور سروچی پرکاشن کے چیئرمین راجیو تولی سمیت دیگر معززین موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ پلیٹ فارم ہندوستانی تاریخ کے تین ادوار، ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک مکالمہ قائم کرے گا، جو ویدک دور سے لے کر آج کے ڈیجیٹل دور تک ہندوستان کی ترقی کو ظاہر کرے گا۔‘‘

دہلی کے وزیر ثقافت کپل مشرا نے کہا کہ جب کوئی پتھر اٹھتا ہے ،فوج کے اوپر پتھر پھینکا جاتا ہے یا پولیس پر پتھر پھینکا جاتا ہے یا کسی مندر پر پتھر پھینکا جاتا ہے ، وہ پتھر ہاتھ میں بعد میں آتا ہے اور دماغ میں پہلے آتا ہے۔

جو نکسلائٹ بندوق اٹھاتا ہے، کوئی جہادی دہشت گرد بندوق اٹھاتا ہے، ڈاکٹر ہونے کے باوجود بم بن کر پھٹنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، وہ بم ہاتھ میں بعد میں آتا ہے، ذہن میں اسے پہلے رکھا جاتا ہے ۔ یہجو دماغ میں بندوقوں اور بموں کو رکھنے کی یہ نظریاتی دہشت گردی ہے، دہلی کا یہ شبدتسو اس نظریاتی دہشت گردی پر سرجیکل اسٹرائیک ہے۔

وزیر نے کہا،’’ہم نے یہ بھی عزم کیا ہے کہ دہلی کو نکسلی نظریہ، جھوٹی تاریخ، مذہب مخالف سوچ سے آزاد کرنے کے لیے جو بھی ممکن ہوگا ، وہ کریں گے اور ہم اس کی شروعات دہلی شبدوتسو سے کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے اعلان کیا کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔

راجیو تولی نے کہا کہ جب یہ ملک کا سماج بیدار اور متحد ہوگا تو وہ اس طرح کے عظیم الشان، عالیشان، روحانی، سماجی اور ادبی تقریبات کا انعقاد کرے گا۔ یہ دنیا کو دکھائے گا کہ ہندوستان عالمی لیڈر کیوں ہے اور ہندوستان کو عالمی لیڈر کیوں بننا چاہئے۔ چاہے وہ کمبھ میلہ ہو یا یہ ادبی اور ثقافتی کمبھ میلہ۔

سیشن کا پہلا دن خود انحصاری سے ہمت اور اندرونی جنگ: اندرونی محاذ پر چیلنجز پر مرکوز تھا۔ ثقافتی شام کا آغاز شام 6 بجے ہوا، جس میں مادھواج بینڈ اور ہرشدیپ کور کی پیش کش ہوئی۔

دوسرے دن (3 جنوری) کو’’ہندو ہسٹری‘‘،’’غلطتصور کی سچائی‘‘،’’سینما میں ہندو‘‘ اور ’’وندے ماترم اور بنگال]] جیسے اہم موضوعات پر سیشن منعقد ہوں گے۔ شام 5:30 بجے شروع ہونے والی ثقافتی شام میں پرہلاد سنگھ ٹپنیا اور پانڈواج بینڈ کی پیش کش ہو گی۔

میلے کے آخری دن ’’سنگھ شکتی کلی یوگے‘‘ اور’’ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی پر گفتگو‘‘ جیسے عصری اور فکر انگیز سیشنز پیش کیے جائیں گے۔ اختتامی سیشن شام 5:30 بجے منعقد ہوگا، اس کے بعد سادھو بینڈ اور گلوکار ہنسراج رگھوونشی کی پرفارمنس ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande