کانگریس کا منی کرنیکا گھاٹ پر تعمیر نو کے خلاف احتجاج، میمورنڈم پیش کیا
۔کاشی میں ترقی کے نام پر منظم تخریب کاری کا الزام عائد کیا وارانسی، 16 جنوری (ہ س)۔اتر پردیش کے وارانسی ضلع میں موکش تیرتھ منی کرنیکا گھاٹ کی تعمیر نو (تزئین کاری) کے دوران مہارانی اہلیہ بائی ہولکر کی مورتی کو نقصان پہنچنے پر کانگریس پارٹی نے جمعہ
کانگریس کا منی کرنیکا گھاٹ پر تعمیر نو کے خلاف احتجاج، میمورنڈم پیش کیا


۔کاشی میں ترقی کے نام پر منظم تخریب کاری کا الزام عائد کیا

وارانسی، 16 جنوری (ہ س)۔اتر پردیش کے وارانسی ضلع میں موکش تیرتھ منی کرنیکا گھاٹ کی تعمیر نو (تزئین کاری) کے دوران مہارانی اہلیہ بائی ہولکر کی مورتی کو نقصان پہنچنے پر کانگریس پارٹی نے جمعہ کو ضلع ہیڈکوارٹر پر احتجاج کیا۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف نعرے لگانے کے بعد کانگریس کے وفد نے ضلع مجسٹریٹ کے نام ایک خط اے سی ایم فرسٹ کو سونپا۔

میمورنڈم پیش کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے شہر صدر راگھویندر چوبے نے کہا کہ یہ میمورنڈم منی کرنیکا گھاٹ پر مذہبی مقامات، دیوی -دیوتاؤں کی مورتیوں اور عقیدے کے مقامات کے مسلسل انہدام کے سلسلے میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وارانسی میں عقیدے، تاریخ اور ثقافت کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ کاشی صرف ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں سناتن دھرم کو ماننے والوں کی زندہ ثقافت ہے، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ آج اسی کاشی میں ترقی کے نام پر منظم بربادی ہو رہی ہے۔

پہلے کاشی وشوناتھ کوریڈور کے نام پر سینکڑوں مندروں اور تاریخی مذہبی مقامات کو منہدم کیا گیا، پھر جدوجہد آزادی سے جڑی علامتوں کو ہٹا دیا گیا۔ اب منی کرنیکا گھاٹ کے علاقے میں دیوی دیوتاؤں، مندروں اور مذہبی علامتوں کی مورتیوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو کاشی کی روح پر سیدھا حملہ ہے۔ منی کرنیکا گھاٹ سمیت بہت سے علاقوں میں کئی ایسے مذہبی مقامات ہیں، جہاں لوگوں نے اپنی پوری زندگی سناتن دھرم کی خدمت کے لیے وقف کر دی لیکن انہیں بغیر کسی انسانی حساسیت یا متبادل انتظامات کے توڑا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ دیوی -دیوتاؤں کی مورتیوں کو ان کے اصل مقامات سے ہٹاکرانہیں نقصان پہنچانا بھی انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ یہ کیسی ترقی ہے، جس میں مندر ٹوٹتے ہیں، مورتیوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اور لوگوں کے عقیدے کو پامال کیا جاتا ہے؟

کیا وارانسی کی شناخت صرف راہداریوں اور پتھروں تک محدود کر دی جائے گی یا اس کی روح، ثقافت اور مذہبی ورثے کو بھی محفوظ کیا جائے گا؟ کانگریس پارٹی واضح طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ اس پورے معاملے کی حقیقت سامنے لانے کے لیے فوری طور پر ضلع انتظامیہ، مقامی شہریوں اور کانگریس کے اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ وفد تشکیل دیا جائے، تاکہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوسکے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ اگر ضلع انتظامیہ نے اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے عقیدے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو بند نہیں کیا تو کانگریس پارٹی کاشی کے عوام کے ساتھ مل کر سڑکوں سے ایوان تک ایک جمہوری اور پرامن تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔

وفد کی قیادت ضلع صدر راجیشور سنگھ پٹیل کر رہے تھے۔ احتجاج میں فصاحت حسین بابو، سنجیو سنگھ، ڈاکٹر راجیش گپتا، ستنام سنگھ، اشوک سنگھ، دلیپ چوبے، سنتوش چورسیا، حسن مہدی کبن، پیوش سریواستو، اور دیگر شامل رہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande