پروفیسر محمد ذاکر کا سانحہ ارتحال ادبی حلقے کے لیے اندوہناک ہے: پروفیسر کوثر مظہری
پروفیسر محمد ذاکر کی رحلت پر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تعزیتی جلسے کا انعقادنئی دہلی،16جنوری(ہ س)۔ پروفیسر محمد ذاکر کا سانحہ ارتحال شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ہی نہیں بلکہ ادبی خاندان کے لیے ایک جاں کاہ صدمہ ہے۔ درس و تدریس سے ان کی وال
پروفیسر محمد ذاکر کا سانحہ ارتحال ادبی حلقے کے لیے اندوہناک ہے: پروفیسر کوثر مظہری


پروفیسر محمد ذاکر کی رحلت پر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تعزیتی جلسے کا انعقادنئی دہلی،16جنوری(ہ س)۔ پروفیسر محمد ذاکر کا سانحہ ارتحال شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ہی نہیں بلکہ ادبی خاندان کے لیے ایک جاں کاہ صدمہ ہے۔ درس و تدریس سے ان کی والہانہ شیفتگی، ادب فہمی کا منفرد اور ذاتی طرز، فارسی اور انگریزی میں ماہرانہ دسترس، کلاسیکی ادبیات کے انگریزی تراجم اور اپنی نوعیت کی وضع دار شخصیت کے نقوش تادیر علم دوست اذہان پر مرتسم رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز ترجمہ نگار، ادیب اور سابق صدر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر محمد ذاکر کی رحلت پر شعبے میں منعقدہ تعزیتی جلسے میں صدرِ شعبہ پروفیسر کوثر مظہری نے کیا۔ واضح رہے کہ پروفیسر محمد ذاکر کا انتقال گزشتہ دنوں28 دسمبر2025 کو دہلی میں ہوگیا تھا۔ تعزیتی جلسے میں صدر شعبہ? اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی نے مرحوم سے اپنی کچھ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں ان سے بہت متاثر ہوا۔ لفظوں سے غیرمعمولی دلچسپی اور الگ زاویے سے شعر کی قرا?ت کے حوالے سے وہ اپنے عہد میں ممتاز نظر آتے تھے۔ صدر شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے گہرے صدمے اور جذباتی کیفیت میں کہا کہ میں ان کا باقاعدہ شاگرد ہوں۔ وہ ان اساتذہ میں سے تھے، جن کے دم سے اردو کے شعبوں میں آج بھی رونق و رعنائی ہے۔ لسانیات پر ان کی گہری نظرسے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ جلسے میں رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ مرحوم اپنی ہرادا میں منفرد تھے۔ گفتگو، وضع قطع، تقریروتحریر، سب میں ایک شائستگی اور وقار کی آمیزش تھی۔ پروفیسر احمد محفوظ نے ان سے وابستہ یادوں کا اشتراک کرتے ہوئے کہا کہ میں نے انھیں کبھی علم و ادب کے علاوہ کوئی فضول بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب بھی ملتے کسی لفظ، کسی شعر کے حوالے سے ہی باتیں کرتے۔ پروفیسر ندیم احمد نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذاکر صاحب جب بھی ملتے تو نہایت خلوص، شفقت اور محبت کا مظاہرہ کرتے اور یہ ضرور پوچھتے کہ ا?ج کل کیا علمی اور ادبی مشغلہ ہے۔ پروفیسر عمران احمد عندلیب نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم صحیح معنوں میں منتخب روزگار استاذ تھے اور انھوں نے کئی نسلوں کی غیرمعمولی تربیت کی۔ پروفیسر سرورالہدیٰ نے ان کی یادوں، باتوں اور ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مختلف سانچے میں ڈھلی ہوئی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا ذہن ہمہ وقت علمی و ادبی کارگزاری میں سرگرداں رہتا تھا۔ ڈاکٹر شاہ عالم نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے باضابطہ ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ میں نے ان جیسے باکمال اساتذہ بہت کم دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مبشر نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ وہ ہماری نسل کے لیے استاذالاساتذہ کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کی تحریریں اور تقریریں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ڈاکٹر سید تنویر حسین نے انھیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عاجزی، انکسار، عالمانہ وقار اور نازک حالات میں ان کی بردباری اور خوش اسلوبی ان کی نمایاں صفات تھیں۔ ڈاکٹر محمد مقیم نے بھی تعزیت اور اظہارِ افسوس کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande