
نئی دہلی،16جنوری(ہ س)۔ عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اسٹال پر کونسل کے زیرِ اہتمام آج تین اہم موضوعات ”اردو زبان اور نئی نسل“، ”انڈین نالج سسٹم کے اردو تراجم“ اور ”اردو میں یونانی طب: قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں“ پر مذاکروں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں اہلِ علم و ادب، طلبہ اور شائقینِ اردو کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
'اردو زبان اور نئی نسل'کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال،ڈاکٹر شمع افروز زیدی، ڈاکٹر اطہر فاروقی اور ڈاکٹر محبوب حسن بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر صائمہ ثمرین نے انجام دیے۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عموماً جب ہم نئی نسل کی بات کرتے ہیں تو فوراً نوجوان لکھنے والوں یا کسی مخصوص طبقے کی طرف توجہ چلی جاتی ہے، جبکہ اصل نئی نسل وہ ٹین ایجرز ہیں جن کے لیے الگ نوعیت کے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو ان کی عمر، ذہنی ساخت اور دلچسپی کے مطابق کتابیں فراہم کی جانی چاہئیں، نہ کہ یہ توقع کی جائے کہ وہ براہِ راست اعلیٰ سطح کی کلاسیکی نثر یا مشکل متون پڑھنے لگیں۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے مزید کہا کہ زبان یا ادب یکایک نہیں سیکھا جاتا بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے، جو مرحلہ بہ مرحلہ آگے بڑھتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نئی نسل کی نفسیات اور رجحانات کو سمجھیں اور اسی کے مطابق اردو میں دل چسپ، آسان اور عصری موضوعات پر مواد تیار کریں۔ انھوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحرک ہوں، نئے خیالات کے ساتھ آگے آئیں اور نئی نسل تک اردو کو جدید انداز میں پہنچائیں۔ اگر ہم وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں تو اردو زبان نئی نسل کے لیے مزید پرکشش اور موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر شمع افروز زیدی نے کہا کہ بچوں اور نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے سب سے پہلے گھریلو ماحول سازگار بنانا ہوگا۔ گھر میں اردو زبان کا استعمال بے حد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی وقت کی ضرورت ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اردو کو نظر انداز کر دیں۔ انھوں نے قومی اردو کونسل کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کونسل بچوں کے ذوق اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری کتابیں شائع کر رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کہا کہ جب تک گھروں میں کتاب نہیں پہنچے گی اور مطالعے کا ماحول نہیں بنے گا، نئی نسل اردو سے قریب نہیں ہوگی۔ انھوں نے اسکولی سطح پر اردو تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر موضوع پر معیاری اردو کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر محبوب حسن نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ نوجوان نسل اردو کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، تاہم اس رجحان کو مضبوط کرنے کے لیے مزید عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ جو زبان اپنے عہد کی ضروریات کو پورا نہیں کرتی، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔'انڈین نالج سسٹم کے اردو تراجم'کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر عزیزالدین، پروفیسر علیم اشرف، ڈاکٹر رحیل صدیقی اور ڈاکٹر ارشاد نیازی بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت ڈاکٹر ریحان نے کی۔ پروفیسر عزیزالدین نے کہا کہ اردو میں ہندوستانی ثقافت اور وراثت کے ترجمے کی روایت بے حد قدیم ہے اور اس کی بنیاد عہدِ اکبری میں رکھی گئی تھی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ پروفیسر علیم اشرف نے کہا کہ زیادہ تر قدیم تراجم سنسکرت سے فارسی میں ہوئے اور بعد میں اردو میں منتقل ہوئے، مگر ان پر نظرِ ثانی اور جدید تقاضوں کے مطابق ایویلویشن کی شدید ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مترجم کے لیے زبان کے ساتھ ثقافت اور تہذیب سے واقفیت بھی لازمی ہے۔ ڈاکٹر رحیل صدیقی نے کہا کہ مترجم کو اپنی ذاتی فکر سے بالاتر ہو کر متن کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ویدوں کے اردو میں کامیاب ترجمے ہوئے ہیں. انھوں نے مزید کہا کہ قومی اردو کونسل نے اصطلاح سازی کے میدان میں جو اہم کام کیا ہے، وہ لائقِ تحسین ہے۔ ڈاکٹر ارشاد نیازی نے کہا کہ ترجمے میں سب سے اہم مرحلہ لفظ کی تفہیم ہے، کیونکہ جب تک لفظ واضح نہ ہو، معنی اور مفہوم بھی واضح نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے ہندی سے اردو ترجمے میں تذکیر و تانیث کے مسائل کی طرف توجہ دلائی اور مذہبی صحائف کے تراجم کو عصری ضرورت قرار دیا۔آج کا تیسرا اور آخری مذاکرہ ”اردو میں یونانی طب: قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں“ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر سید احمد خاں، پروفیسر عبدالودود اور پروفیسر شبیر احمد بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت ڈاکٹر محمد فیصل نے کی۔ اس مذاکرے میں مقررین نے کہا کہ یونانی طب برصغیر کے علمی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور اردو زبان اس علم کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ رہی ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یونانی طب سے متعلق قدیم اردو متون کو جدید سائنسی اور تعلیمی معیار کے مطابق ازسرِنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل اور طلبہ اس سے بخوبی فائدہ اٹھا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر یونانی طب کو قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ادارہ جاتی سطح پر فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف اردو زبان کے استحکام کا سبب بنے گا بلکہ ہندوستانی طبی نظام کو بھی عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan