ریلوے کی زمین سے تجاوزات ہٹا ئی گئیں، 32 دکانیں اور مکانات منہدم کئے گئے
مشرقی سنگھ بھوم، 16 جنوری (ہ س)۔ ٹاٹا نگر ریلوے اسٹیشن سے باغبیڑا اور کیتاڈیہ کی طرف ریلوے اراضی پر تجاوزات کے خلاف جمعہ کو انتظامیہ نےمہم شروع کی۔ یہ کارروائی ریلوے کے ری ڈیولپمنٹ پلان کے تحت کی گئی۔ معاملے کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں پیش کرنے اور ک
JH-ENCROACHMENT-REMOVED-FROM-RAILWAY-LAND


JH-ENCROACHMENT-REMOVED-FROM-RAILWAY-LAND


مشرقی سنگھ بھوم، 16 جنوری (ہ س)۔ ٹاٹا نگر ریلوے اسٹیشن سے باغبیڑا اور کیتاڈیہ کی طرف ریلوے اراضی پر تجاوزات کے خلاف جمعہ کو انتظامیہ نےمہم شروع کی۔ یہ کارروائی ریلوے کے ری ڈیولپمنٹ پلان کے تحت کی گئی۔ معاملے کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں پیش کرنے اور کوئی حکم امتناعی حاصل نہ ہونے کے بعد انتظامیہ نے تجاوزات ہٹانے کا عمل مکمل کیا۔

جمعہ کی صبح سے ہی اسٹیشن ایریا میں بڑی تعداد میں پولیس، آر پی ایف اور ریلوے حکام اور ملازمین کو تعینات کیا گیا تھا۔ انتظامیہ پہلے ہی حد بندی کرکے مارکنگ مکمل کر چکی تھی جس کے بعد کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ کاروائی کے دوران کوئی احتجاج نہیں ہوا اور سارا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوا۔ مجموعی طور پر 32 دکانیں اور مکانات منہدم کیے گئے جن میں 27 دکانیں اور پانچ مکانات شامل ہیں۔ ان میں سے چار دکانداروں کو اپنا سامان خالی کرنے کے لیے تین دن کی اضافی راحت دی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ اسٹیشن چوک سے کیتاڈیہ تک سڑک، بی ایس این ایل دفتر کے ارد گرد کا علاقہ، باغبیڑا روڈ اور گول پہاڑی کے چکر کے قریب شراب کی دکان سمیت کئی مقامات پر تجاوزات تھے۔ ان تمام تجاوزات کرنے والوں کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے گئے تھے جس میں انہیں جگہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ جمعرات کی شام دیر گئے، مائیکروفون پر اعلانات کیے گئے، جس میں لوگوں کو اپنے سامان کو خود سے ہٹانے کی اطلاع دی گئی۔

اس کارروائی کے دوران جمشید پور کے زونل افسر منوج کمار مجسٹریٹ کے طور پر موجود تھے۔ سیکورٹی کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ تجاوزات ہٹانے کے بعد متاثرہ دکانداروں کو روزی روٹی کا بحران درپیش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 40 سے 50 برس سے باقاعدہ کرایہ ادا کر کے اپنی دکانیں چلا رہے ہیں۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande