
اے ایم یو کے طلبہ نے انشاء فاطمہ کی ناگہانی موت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا
علی گڑھ، 16 جنوری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سروجنی نائیڈو ہال میں اقامت پذیر طالبہ انشاء فاطمہ کے اچانک انتقال پر ہال میں ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی، جس میں پرووسٹ، وارڈنز، طالبات اور عملے کے اراکین نے شرکت کی اور مرحومہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سوگوار کنبہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
پرووسٹ پروفیسر عروس الیاس نے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اسے پوری ہال برادری کے لیے نہایت تکلیف دہ لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور ہمدردی و باہمی ذمہ داری کے جذبے کو برقرار رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ہال کی زندگی ایک کنبہ کی مانند ہے جو دیکھ بھال اور مشترکہ ذمہ داری کے رشتے میں بندھا ہوا ہے۔ وارڈنز، طلبہ اور عملے کے اراکین نے انشاء فاطمہ کی یادیں تازہ کیں اور اقامت پذیر طالبات کے درمیان رشتوں کی مضبوطی کو اہم قرار دیا۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سارہ جاوید نے بالخصوص غم و اندوہ اور جذباتی کرب کے ادوار میں دماغی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طالبات کو بلا جھجھک مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا اور رہنمائی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت شفا یابی کے عمل کا ایک لازمی جزو ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ