
سابق رکن اسمبلی رمیش قدم نے شرد پوار کی پارٹی سے کنارہ کر لیاممبئی، 14 جنوری (ہ س)۔ مہاراشٹر کی سیاست میں اس وقت ہلچل پیدا ہو گئی جب شرد پوار کی این سی پی کے سینئر لیڈر اور سابق رکن اسمبلی رمیش قدم نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ میونسپل کارپوریشن انتخابات سے پہلے ہونے والی اس پیش رفت کو پارٹی کے لیے ایک بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق رمیش قدم چیپلون میونسپل صدر کے انتخاب میں شکست کے بعد کافی مایوس تھے۔ ان کا موقف ہے کہ طویل وابستگی کے باوجود پارٹی کے اندر انہیں مناسب ذمہ داری اور تعاون نہیں دیا گیا، جس کے سبب انہوں نے ریاستی صدر کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ رمیش قدم 1984 سے این سی پی کے ساتھ وابستہ رہے اور پارٹی کے مشکل ادوار میں بھی قیادت کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
خاص بات یہ ہے کہ اجیت پوار کی بغاوت کے دوران، جب این سی پی کے کئی بڑے رہنماؤں نے اجیت پوار کا ساتھ اختیار کیا تھا، اس وقت بھی رمیش کدم نے شرد پوار سے وابستگی قائم رکھی تھی۔ اسی لیے ان کی حالیہ علیحدگی کو پارٹی کے اندرونی حالات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر ریاست میں 12 ضلع پریشدوں اور 125 پنچایت سمیتیوں کے انتخابات کا باضابطہ اعلان ہو چکا ہے۔ ان انتخابات کے تحت 5 فروری کو ووٹنگ اور 7 فروری کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ اس پس منظر میں رمیش کدم کا پارٹی چھوڑنا این سی پی کے لیے انتخابی سطح پر ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے