
آئی ایس آر ڈی دہلی کے زیرِ اہتمام بچوں کے مصنفین و پبلشرز کی اہم ورکشاپ،اخلاقی، دینی اور روحانی اقدار سے ہم آہنگ لٹریچر کی تیاری پر ماہرین کی رائےنئی دہلی،14جنوری(ہ س)۔انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈی اینڈ ریسرچ دہلی (آئی ایس آر ڈی) کے زیرِ اہتمام بچوں کے لیے لکھنے والوں، پبلشرز، کونسلرز اور تعلیمی ماہرین کی ایک اہم یک روزہ ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں ڈیجیٹل عہد میں ادبِ اطفال کے کردار اور اس کی فکری و اخلاقی ذمہ داریوں پر غور کیا گیا۔ ورکشاپ کا عنوان ”اگلی نسل میں فکری، اخلاقی اور روحانی نشوونما“ تھا۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر جناب ایس امین الحسن نے کہا کہ بچوں کے لیے ادب عمر کے مختلف مراحل کے مطابق تیار کیا جانا چاہیے، کیونکہ ذہنی اور نفسیاتی نشوونما بتدریج ہوتی ہے۔ انہوں نے لوریوں، کہانیوں، سیرتِ نبوی? اور قرآن فہمی پر بچوں کے فہم کے مطابق کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیرت کو قابلِ تقلید انسانی انداز میں پیش کرنا بچوں کی کردار سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ڈاکٹر محمد رضوان نے کہا کہ بچوں کا ادب محض تفریح نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی تربیت کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی بچوں کے لٹریچر میں عدل، انصاف، رحم، شجاعت اور صحیح و غلط میں امتیاز جیسی اقدار شامل ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق تخیلاتی اور سائنسی موضوعات کو بھی اخلاقی دائرے میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر سراج عظیم نے بچوں کے ادب کی نفسیاتی اور فکری ضرورتوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنفین کو بچوں کی ذہنی سطح کو سمجھ کر تحریر کرنی چاہیے۔ انہوں نے پبلشرز کو بھی رہنمائی دی کہ بچوں کے لیے دل چسپ، مو ¿ثر اور مقصدی کتابیں کس طرح تیار کی جا سکتی ہیں۔
این سی آر ٹی کے کنسلٹنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر پرویز شہریار نے کہا کہ ایڈیٹنگ کو محض پروف ریڈنگ سمجھنا غلط ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کتاب سازی ایک مکمل عمل ہے جس میں ایڈیٹنگ، پروڈکشن، مارکیٹنگ اور پرنٹنگ جیسے اہم مراحل شامل ہوتے ہیں۔ معیاری بچوں کی کتاب کے لیے ان تمام مراحل پر توجہ ضروری ہے۔جماعت اسلامی ہند کی نیشنل سکریٹری شعبہ خواتین محترمہ شائستہ رفعت نے موجودہ کونسلنگ کے رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مو ¿ثر کونسلنگ کی بنیاد رازداری، احترام اور اعتماد پر ہوتی ہے۔ انہوں نے خواتین کو فیملی کونسلنگ کی تربیت حاصل کرنے کی تلقین کی تاکہ سماجی مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکے۔افتتاحی خطاب میں جماعت اسلامی ہند دہلی پردیش کے سکریٹری زاہد حسین نے کہا کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی فکری و اخلاقی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بچوں کے لیے جدید ذرائع جیسے کارٹون، فلم، آڈیو اور آن لائن پلیٹ فارمز کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا۔آئی ایس آر ڈی کے سکریٹری محمد آصف اقبال نے کہا کہ یہ ورکشاپ بچوں کے مصنفین، ڈیجیٹل و پرنٹ پبلشرز، کونسلرز اور تعلیمی اداروں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی کوششوں سے اقدار پر مبنی بچوں کے لٹریچر کو نئی سمت ملے گی۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاءمیں اسناد تقسیم کی گئیں۔ورکشاپ میں ڈاکٹر عادل حیات، جناب حبیب سیفی، جناب دلشاد حسین اصلاحی،فیروز ہاشمی،انیس اعظمی پرویز شہر یار اور دیگر معزز ادیب شریک تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais