ٹرمپ کا ایران کے تجارتی شراکت داروں پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان
واشنگٹن،13جنوری(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے جو دباو¿ میں اضافے کا باعث ہو گا۔ ا±دھر انسانی حقوق کے ایک گروپ کا اندازہ ہے کہ مظاہروں پر کریک ڈاو¿ن کے
ٹرمپ کا ایران کے تجارتی شراکت داروں پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان


واشنگٹن،13جنوری(ہ س)۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے جو دباو¿ میں اضافے کا باعث ہو گا۔ ا±دھر انسانی حقوق کے ایک گروپ کا اندازہ ہے کہ مظاہروں پر کریک ڈاو¿ن کے نتیجے میں کم از کم 648 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ٹرمپ جو بارہا ایران کو فوجی مداخلت کی دھمکیاں دے چکے ہیں، نے پیر کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ نئے محصولات اسلامی جمہوریہ کے ا±ن تجارتی شراکت داروں پر ’فوراً‘ نافذ العمل ہوں گے جو امریکہ کے ساتھ بھی کاروبار کرتے ہیں۔یہ حکم حتمی اور فیصلہ کن ہے۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کن ممالک پر اثر انداز ہو گا۔

ٹرمپ ایران کے بارے میں اپنے ممکنات پر غور کر رہے ہیں جو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے شدید مظاہروں کی لپیٹ میں ہے اور لوگوں نے انٹرنیٹ کی تقریباً مکمل بندش اور مہلک قوت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔معاشی شکایات اور مسائل کی وجہ سے ہونے والا ملک گیر احتجاج حکومت کے لیے اب تک کا ایک سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے جو 1979 کے اسلامی انقلاب میں شاہِ ایران کو معزول کر دینے کے بعد سے ایران پر حکمرانی کر رہی ہے۔ایرانی حکام نے بدامنی کو ہوا دینے کے لیے غیر ملکی مداخلت کو موردِ الزام قرار دیا ہے اور اپنی ملک گیر جوابی ریلیاں نکالی ہیں۔انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ ذرائع مواصلات منقطع کرنے کا مقصد ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو چھپانا ہے۔

ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے کہا کہ اس نے مظاہروں کے دوران 648 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جن میں نو نابالغان بھی شامل ہیں لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے حتیٰ کہ بعض اندازوں کے مطابق یہ 6,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔انٹرنیٹ کی بندش سے ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، آئی ایچ آر نے کہا اور مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 10,000 افراد کو گرفتار کیا گیا۔آئی ایچ آر کے ڈائریکٹر محمود امیری-مقدم نے کہا، عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ کے ہاتھوں شہری مظاہرین کے بڑی تعداد میں قتل کے خلاف تحفظ فراہم کرے۔

انقلاب سکوائر پر پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالباف نے مجمع کو بتایا کہ ایران ایک چہار طرفہ جنگ لڑ رہا ہے جس میں اقتصادی جنگ، نفسیاتی جنگ، امریکہ اور اسرائیل سے ’فوجی جنگ‘ اور ’آج دہشت گردوں کے خلاف جنگ‘ شامل ہیں جس سے ان کا مطلب احتجاج تھا۔فارسی میں ’مرگ بر اسرائیل، مرگ بر امریکہ‘ کے نعروں سے لبریز انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر حملہ ہوا تو ایرانی فوج ٹرمپ کو ’ایک ناقابلِ فراموش سبق‘ سکھائے گی۔لیکن ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ایران کی قیادت نے انہیں فون کر کے ’مذاکرات‘ کرنے کو کہا تھا۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران’جنگ کا خواہاں نہیں لیکن اس کے لیے مکمل تیار ہے‘ اور ’منصفانہ‘ مذاکرات پر زور دیا۔ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا، سفارتی تعلقات کی کمی کے باوجود عراقچی اور ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ کھلا ہے۔ماضی کے معزول شاہِ ایران کے امریکہ میں مقیم بیٹے رضا پہلوی نے جو احتجاج کا مطالبہ کر رہے ہیں، نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ حکومت دنیا پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ (وہ) ایک بار پھر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایک ایسے شخص ہیں کہ جو کہتے ہیں، ان کا واقعی وہ مطلب ہے اور جو ان کا مطلب ہوتا ہے، وہی کہتے ہیں’اور وہ اس کے ‘ممکنہ نتائج سے بخونہ واقف ہیں۔نیز کہا، جو سرخ لکیر کھینچی گئی تھی، اسے یقیناً اِس (ایرانی) حکومت نے عبور کر لیا ہے۔

ریاستی میڈیا ادارے تہران میں اصل حالات کی تصویر پیش کرنے کی جسارت نہ کر سکے اور شہر میں معمول کے مطابق ہموار ٹریفک کی تصاویر نشر کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی اطلاع دی کہ مظاہروں میں ہلاک شدہ سکیورٹی فورسز کے درجنوں ارکان کے جنازے حکومت کی حامی بڑی ریلیوں میں بدل گئے۔یورپی یونین نے مظاہرین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے پیر کے روز کہا، مظاہروں میں جبر و طاقت کا استعمال کرنے پر ایران پر اضافی پابندیاں زیرِ غور ہیں۔یورپی پارلیمنٹ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے تمام ایرانی سفارتکاروں اور نمائندگان کے اسمبلی احاطے میں جانے پر پابندی لگا دی ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایک بیان میں اندھا دھند ایرانی خواتین اور مردوں کو نشانہ بنانے والے ریاستی تشدد کی مذمت کی جو جر?ت کے ساتھ اپنے حقوق کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔مظاہروں پر اپنے پہلے ردِ عمل میں تہران کے اتحادی روس نے اپنی طرف سے ’غیر ملکی طاقتوں‘ کی ایران میں مداخلت کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، روس کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande