یورپ نے ایرانی سفارت کاروں پر پارلیمنٹ میں داخلے پر پابندی عائد کردی، تہران کی جوابی کارروائی
برسلز،13جنوری(ہ س)۔یورپی یونین نے ایران بھر میں مظاہرین کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد ایرانی حکام کے خلاف اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔ یورپی پارلیمان کی صدر روبرٹا میٹسولا نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی سفارت کاروں کے یورپی پارلیمان میں داخلے پر پابندی
یورپ نے ایرانی سفارت کاروں پر پارلیمنٹ میں داخلے پر پابندی عائد کردی، تہران کی جوابی کارروائی


برسلز،13جنوری(ہ س)۔یورپی یونین نے ایران بھر میں مظاہرین کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد ایرانی حکام کے خلاف اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔ یورپی پارلیمان کی صدر روبرٹا میٹسولا نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی سفارت کاروں کے یورپی پارلیمان میں داخلے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا یہ کارروائی تہران حکومت کی جانب سے ان مظاہرین کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاو¿ن کے جواب میں ہے جو نصف صدی کی آمریت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔میٹسولا نے پارلیمان کے ارکان کو بھیجے گئے ایک پیغام میں اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پابندی میں برسلز اور سٹراسبرگ میں پارلیمان کی تمام عمارتیں۔ جہاں اہم بحثیں ہوتی ہیں۔ اور لکسمبرگ میں یورپی یونین کے جنرل سیکرٹریٹ کا ہیڈ کوارٹر شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داخلی راستے پر ایرانی پاسپورٹ رکھنے والے کسی بھی شخص کی تلاشی لی جائے گی اور جس کے بارے میں یہ ثابت ہوگا کہ وہ حکومت کے لیے کام کر رہا ہے اسے داخلے سے روک دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ میٹسولا نے اپنے پیغام ، جس کا مشاہدہ 'پولیٹیکو' نے کیا ہے، میں یہ بھی لکھا کہ ایرانی عوام تعاون، یکجہتی اور کارروائی کے لیے اس پارلیمان پر بھروسہ کرنا جاری رکھ سکتے ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کے روز احتجاجی مظاہروں کی حمایت کرنے پر 4 یورپی ممالک کے سفیروں کو طلب کرنے کا اعلان کردیا۔ ایرانی حکام نے تہران میں جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے سفیروں یا ناظم الامور کو طلب کیا۔ ایرانی ٹیلی ویڑن کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں ان ممالک کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی حمایت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔فرانسیسی وزارت خارجہ نے ” اے ایف پی“ کو بتایا کہ ہم یورپی سفیروں کی طلبی کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ پیش رفت یورپی یونین کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں اس نے ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے ارادے کا اظہار کیا تاہم اس بات پر زور دیا کہ ایرانی نظام کی تبدیلی اس کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان انور العنونی نے کہا کہ ہم مظاہرین پر تشدد پر مبنی کریک ڈاون کے بعد نئی اور زیادہ سخت پابندیوں کی تجویز دینے کے لیے تیار ہیں۔یورپی کمیشن نے ایرانی حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ عوام کی امنگوں کو سنیں اور ان زیر حراست افراد کو رہا کریں جنہوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ کمیشن کی جانب سے ” العربیہ/ الحدث “ کو دیے گئے بیانات میں کہا گیا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی اس کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔ کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایرانی عوام کی جانب سے اپنے نمائندوں کے انتخاب کی حمایت کرتا ہے۔دوسری طرف برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے پیر کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے کہا کہ ان کی حکومت کو ملک میں مظاہرین کے خلاف تشدد فوری طور پر بند کرنا چاہیے۔ کوپر نے ” ایکس “ پر کہا کہ ایران میں پرامن مظاہرین کا قتل اور وحشیانہ کریک ڈاون ہولناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ایرانی وزیر خارجہ عراقچی سے بات کی اور انہیں براہ راست بتایا کہ ایرانی حکومت کو تشدد فوری طور پر ختم کرنا چاہیے، بنیادی حقوق اور آزادیوں کی حمایت کرنی چاہیے اور برطانوی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔واضح رہے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب دارالحکومت تہران میں ایک بڑے مظاہرے کی لہر چھائی ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی مجلس شوریٰ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ملک میں جاری احتجاجی لہر کے جواب کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ قالیباف نے کہا کہ ایران چار محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے جو معاشی جنگ، نفسیاتی جنگ، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فوجی جنگ اور آج کی دہشت گردوں کے خلاف جنگ ہے۔گزشتہ عرصے کے دوران بہت سے ایرانی سیاست دانوں نے بیرونی عناصر پر ملک میں افراتفری پھیلانے اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے احتجاج کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔ ان عناصر میں سرفہرست امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ فوجی آپشن کی طرف اشارہ کیا اور کہا ہے کہ وہ مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande