
تہران،13جنوری(ہ س)۔ایران کے بڑے شہروں میں منگل کے روز بھی احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران امریکہ نے امریکی اور ایرانی دہری شہریت رکھنے والے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوراً ایران چھوڑ دیں، کیونکہ ملک بھر میں احتجاجات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ ایران کے ساتھ بین الاقوامی ٹیلی فون سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران میں موجود امریکی شہریوں کو پوچھ گچھ، گرفتاری اور حراست میں لیے جانے کا سنگین خطرہ لاحق ہے۔ وزارت نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ زمینی راستے کے ذریعے ہمسایہ ممالک آرمینیا یا ترکی کا رخ کریں، جبکہ شدید ضرورت کی صورت میں آذربائیجان جانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ایران میں موبائل فون سروس نے بین الاقوامی کالز کی سہولت دوبارہ فراہم کرنا شروع کر دی ہے، تاہم غیر سرکاری تنظیم نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں 8 جنوری سے انٹرنیٹ سروس تا حال بند ہے۔ادھر ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجات کے آغاز سے اب تک کم از کم 648 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ایران نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ رابطے کے ذرائع کھلے رکھے ہوئے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی دھمکی کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارتی لین دین کرے گا، اسے امریکہ کو برآمدات پر 25 فیصد نئے کسٹم ڈیوٹی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ فیصلہ حتمی ہے، تاہم اس کی قانونی بنیاد یا دائرہ کار کی وضاحت نہیں کی۔امریکی پابندیوں کے باوجود ایران اپنا زیادہ تر تیل چین کو برآمد کرتا ہے، جبکہ ترکیہ، عراق، متحدہ عرب امارات اور بھارت اس کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا کہ اگر سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی تو واشنگٹن حملہ کرے گا۔ وائٹ ہاوس کے مطابق سفارت کاری پہلی ترجیح ہے، تاہم دیگر آپشنز بشمول فضائی حملوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، اگرچہ وہ دھمکیوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایران نے ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے اور خون ریزی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔ احتجاجات مہنگائی میں اضافے کے باعث پھوٹ پڑے تھے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan