ایرانی وزیرخارجہ عراقچی کا کشیدگی کم کرنے کےلئے ٹرمپ کے مندوب سے رابطہ
تہران،13جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وائٹ ہاو¿س کے مندوب سٹیو وٹکوف سے رابطہ کیا ہے۔اس رابطے کی تصدیق دو باخبر ذرائع نے کی ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ
ایرانی وزیرخارجہ عراقچی کا کشیدگی کم کرنے کےلئے ٹرمپ کے مندوب سے رابطہ


تہران،13جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وائٹ ہاو¿س کے مندوب سٹیو وٹکوف سے رابطہ کیا ہے۔اس رابطے کی تصدیق دو باخبر ذرائع نے کی ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ یہ رابطہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی ایرانی کوشش معلوم ہوتا ہے یا کم از کم ٹرمپ کی جانب سے نظام کو کمزور کرنے کے لیے کسی بھی اضافی کارروائی کے حکم سے پہلے مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس پیش رفت سے پیر کے روز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے آگاہ کیا۔ایک باخبر ذریعے کے مطابق عراقچی اور وٹکوف نے آنے والے دنوں میں ملاقات کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم دونوں ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان دو شخصیات نے فون پر بات کی یا ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے رابطہ کیا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ عراقچی اور امریکی مندوب کے درمیان رابطے کا چینل کھلا ہے اور ضرورت پڑنے پر پیغامات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے اتوار کی رات انکشاف کیا کہ ایران نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے اور جوہری معاہدے پر مذاکرات کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے صدارتی طیارے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم ان سے مل سکتے ہیں، ملاقات کا بندوبست کیا جا رہا ہے لیکن ہمیں ایسی ملاقات سے قبل جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔ یاد رہے امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن نئے جوہری معاہدے کے بارے میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔واضح رہے کہ وٹکوف اور عراقچی نے گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات کے دوران ٹیکسٹ میسجز کا تبادلہ کیا تھا۔ اس کی اس وقت امریکی حکام نے تصدیق کی تھی۔ یہ رابطہ گزشتہ جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ کی بمباری کے بعد بھی جاری رہا۔ بلکہ ایک امریکی اہلکار اور دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ دونوں شخصیات ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے گزشتہ اکتوبر تک رابطے میں رہیں۔ توقع ہے کہ ٹرمپ آج منگل کو اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک اجلاس کریں گے جس میں ایران میں احتجاجی مظاہروں کی حمایت کے آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande