
کوئٹہ (بلوچستان)13جنوری(ہ س)۔ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں ڈسپیرٹی ریڈکشن الاو¿نس (ڈی ا ٓر اے) کا مطالبہ کرنے والے سرکاری ملازمین کے احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ مشتعل افراد نے مختلف علاقوں میں قومی شاہراہوں کو بلاک کر رکھا ہے۔ احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں درجنوں سرکاری دفاتر کے ملازمین گزشتہ سات ماہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے بینر تلے منظم، ملازمین 30 فیصد ڈی آر اے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جیسا کہ دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت میں لاگو ہے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ گورنر ہاو¿س، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، سول سیکریٹریٹ، اسمبلی
سیکریٹریٹ اور ہائی کورٹ سمیت بعض اداروں میں ایک ہی کیٹیگری کے ملازمین کو زیادہ تنخواہیں دی جارہی ہیں جب کہ دیگر عدالتوں میں اسی کیٹیگری کے ملازمین کم تنخواہوں پر کام کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تفاوت کو دور کرنے کے لیے قابل تجدید ریونیو قانون ضروری ہے۔ ایک حکومتی کمیٹی نے بھی اس کی سفارش کی ہے لیکن وزیر اعلیٰ نے ابھی تک ان سفارشات پر عمل نہیں کیا۔ احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے حکومت اور ملازمین کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں جن میں سے ہر ایک بے نتیجہ رہا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی