بلوچستان میں پاکستانی فوج کے قافلے پر حملہ، 6 جوان ہلاک - بی ایل ایف کا دعویٰ
کوئٹہ، 13 جنوری (ہ س)۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گھورم بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 جنوری کو پاکستانی فوج کے قافلے پر فرنٹ کے حملے میں 6 جوان مارے گئے۔ ترجمان نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ فرنٹ کے جنگجووں نے دوپہر قریب ایک بج
علامتی تصویر


کوئٹہ، 13 جنوری (ہ س)۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گھورم بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 جنوری کو پاکستانی فوج کے قافلے پر فرنٹ کے حملے میں 6 جوان مارے گئے۔ ترجمان نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ فرنٹ کے جنگجووں نے دوپہر قریب ایک بجے سینٹرل ہائی وے پر ’اورناچ کراس‘ پر فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔

’دی بلوچستان پوسٹ‘ کے مطابق، ترجمان نے کہا کہ فوجی قافلے کی ایک گاڑی پر شدید حملہ ہوا۔ اس گاڑی میں سوار 6 جوان موقع پر ہی مارے گئے۔ فوجی گاڑی بری طرح تباہ ہو گئی۔ میجر گھورم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اورناچ میں قبضہ کرنے والی پاکستانی فوج کے قافلے پر حملے میں 6 اہلکاروں کے قتل کی ذمہ داری لیتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بی ایل ایف بلوچستان کی آزادی کے لیے طویل وقت سے جدوجہد کر رہا ہے۔ بلوچستان میں آزادی کی تحریک 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد شروع ہوئی۔ قلات ریاست کو پاکستان میں زبردستی ملانے کے بعد تب سے بلوچ قوم پرست اپنے خطے کی مکمل آزادی اور اپنے قدرتی وسائل پر کنٹرول کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ 2004 سے بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) جیسے باغی گروپ سرگرم ہیں۔

تاریخی حقیقت ہے کہ 1947 میں قلات ریاست نے خود کو آزاد قرار دیا، مگر 1948 میں پاکستان کی فوج نے اسے زبردستی پاکستان میں ملا لیا۔ بلوچ باغی اپنے خطے کی آزادی، سیاسی خود مختاری اور قدرتی وسائل (جیسے گیس اور معدنیات) پر کنٹرول چاہتے ہیں۔ بلوچ قوم پرستوں کا ماننا ہے کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) ان کی زمین پر غیر ملکی قبضے کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ راہداری نہیں بننی چاہیے۔ آج بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ ہے۔ بلوچ قوم پرستوں اور اسلام آباد کے درمیان تنازعہ جاری ہے۔ بلوچ اپنے استحصال اور نظر اندازی کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande