
نئی دہلی، 12 جنوری (ہ س)۔ ہندوستان میں امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے پیر کو کہا کہ ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدے پر بات چیت 13 جنوری کو دوبارہ شروع ہو گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان حقیقی دوستی کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سچے دوست اختلاف کر سکتے ہیں لیکن آخرکار وہ اپنے اختلافات کو حل کر لیں گے۔
پیر کو ہندوستان میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک بیان میں، سرجیو گور نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات نہ صرف مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں بلکہ دوستی اور اعتماد کے اعلیٰ سطح پر قائم ہیں۔ تجارت دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم جز ہے لیکن اس شراکت داری کو سیکورٹی، انسداد دہشت گردی تعاون، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں بھی آگے بڑھایا جائے گا۔
امریکہ نے حال ہی میں پیکس سلیکا کے نام سے ایک نیا اسٹریٹجک اقدام شروع کیا، جس کا مقصد معدنیات، توانائی، جدید مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، اور لاجسٹکس پر محیط ایک محفوظ اور جدت پر مبنی سلکان سپلائی چین کی تعمیر کرنا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور اسرائیل پہلے ہی اس میں شامل ہو چکے ہیں، اور بھارت کو اگلے ماہ مکمل رکن کے طور پر مدعو کیا جائے گا۔
ہندوستان کے اپنے پہلے سفر (2013) کو یاد کرتے ہوئے، گور نے کہا کہ تاج محل، جے پور، رنتھمبور اور پنجاب کے ان کے دوروں نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ ہندوستان کے لوگوں، رنگوں، تاریخ اور اختراع نے انہیں ہمیشہ واپس آنے کی ترغیب دی ہے، اور اب بطور سفیر واپس آنا اعزاز کی بات ہے۔
صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی طویل رفاقت کا حوالہ دیتے ہوئے گور نے کہا کہ انہوں نے صدر کے ساتھ دنیا کا سفر کیا ہے اور وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان کی گہری دوستی کو قریب سے دیکھا ہے۔ صدر ٹرمپ اگلے ایک یا دو سال میں ہندوستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ سال باہمی تعاون کا سال ہوگا، اور یہ کہ دونوں ممالک منصفانہ تجارت، باہمی احترام اور مشترکہ سلامتی کے لیے مل کر کام کریں گے۔
گور نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور امریکہ سب سے پرانا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان اتحاد عالمی شراکت داری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں تعاون کو نئی سمت فراہم کریں گے۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان یہ رشتہ صرف ایک اسٹریٹجک پارٹنرشپ نہیں ہے بلکہ دیرپا دوستی کی علامت ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی