وزیر اعظم مودی سے متعلق ہتک عزت معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی درخواست مسترد کی
وزیر اعظم مودی سے متعلق ہتک عزت معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی درخواست مسترد کی ممبئی، 8 ستمبر (ہ س)۔ بامبے ہائی کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے سے متعلق ہتک عزت کے معاملے میں کانگریس رہنما راہ
Rahul Gandhi Defamation Case Bombay High Court


وزیر اعظم مودی سے متعلق ہتک عزت معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی درخواست مسترد کی

ممبئی، 8 ستمبر (ہ س)۔ بامبے ہائی کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے سے متعلق ہتک عزت کے معاملے میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کو جاری کیے گئے 2019 کے سمن کو منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت نے کہا کہ نچلی عدالت کے حکم میں ایسی کوئی قانونی خامی یا غیر قانونی بات نظر نہیں آتی جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ کو مداخلت کی ضرورت ہو۔

جسٹس این آر بورکر کی سنگل بینچ نے گریگاؤں مجسٹریٹ عدالت کے 28 اگست 2019 کے حکم کو چیلنج کرنے والی راہل گاندھی کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ مجسٹریٹ کے حکم میں ایسی کوئی کمی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اسے منسوخ یا اس میں مداخلت کی جائے۔

آج ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے نومبر 2021 میں جاری اپنے سابقہ حکم کو بھی برقرار رکھا۔ اس حکم کے ذریعے مجسٹریٹ کو ہتک عزت کی شکایت پر سماعت 6 ہفتوں تک ملتوی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاکہ راہل گاندھی کو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا موقع مل سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال راہل گاندھی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ ہتک عزت کی شکایت 2018 میں رافیل فائٹر جیٹ معاہدے کے حوالے سے راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کیے گئے تبصرے سے متعلق ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ستمبر 2018 میں راجستھان میں منعقدہ ایک عوامی ریلی کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو کمانڈر ان چیف کہا تھا۔ اس کے بعد شکایت کنندہ ایم ایچ شریشری مل نے خود کو بی جے پی کا رکن بتاتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ راہل گاندھی نے ریلی میں تقریر کے علاوہ اپنے ذاتی ایکس اکاؤنٹ، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر بھی اسی طرح کے تبصرے والا ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔

شکایت کنندہ کے مطابق راہل گاندھی کے ان بیانات سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے ارکان کی بدنامی ہوئی۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی کے بیانات میں وزیر اعظم پر براہ راست چوری کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔اس معاملے میں راہل گاندھی کی جانب سے وکیل سدیپ پاسبولا اور کوشل مور نے عدالت میں دلیل دی کہ شکایت کنندہ اس معاملے میں متاثرہ فریق نہیں ہے، اس لیے اسے ایسی ہتک عزت کی شکایت درج کرانے کا قانونی حق حاصل نہیں تھا۔

تاہم شکایت کنندہ کے وکیل نے راہل گاندھی کے وکلا کی جانب سے کی جانے والی جرح کی مخالفت کی تھی۔ معاملے کی سماعت کے بعد بمبئی ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ اسے نچلی عدالت کے حکم میں ایسی کوئی خامی نہیں ملی جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ کو اس میں مداخلت کرنی چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande