
کاٹھمنڈو، 8 ستمبر (ہ س)۔ نیپال کی قومی اسمبلی کے رکن رنجیت کرن نے موسمیاتی معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ (یو این) اور کلائمیٹ فنڈ کو الگ الگ خطوط ارسال کیے ہیں۔
رسوا ضلع میں بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے رکن پارلیمنٹ رنجیت کرن نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور لاس اینڈ ڈیمیج (نقصان اور تباہی) سے نمٹنے والے فنڈکو باضابطہ خط بھیجا ہے۔ سیکریٹری جنرل گوتریس کے نام خط میں رکن پارلیمنٹ نے رسوا میں آنے والی تباہی کو ’بلند ہمالیائی علاقوں میں موسمیاتی انصاف، نقصان و تباہی اور قرض سے پاک مالی امداد کی ضرورت‘ سے جوڑا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قدرتی آفت کے بعد راحت، بچاؤ اور تعمیر نو کے لیے مسلسل تعاون فراہم کیا جائے اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) اور انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کے تعاون سے بلند ہمالیائی علاقوں میں قدرتی آفات کا کثیرالجہتی سائنسی مطالعہ کرانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔رنجیت کرن نے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو قرض کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لیے قرض سے پاک اور گرانٹ پر مبنی موسمیاتی مالی امداد کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
رنجیت کرن نے فنڈ کے بورڈ اور سیکریٹریٹ سے گرانٹ پر مبنی معاوضہ امداد حاصل کرنے کے لیے سب سے تیز اور ادارہ جاتی طور پر ممکن طریقہ کار اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ خط میں نیپال کے قومی فوکل پوائنٹ اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ فوری تکنیکی مذاکرات شروع کرنے، قرض کے بجائے گرانٹ کو ترجیح دینے اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک پر مزید قرض کا بوجھ نہ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ معاشی اور غیر معاشی نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے اور گلیشیئرز کے پگھلنے اور غیر مستحکم برفانی و پہاڑی نظام جیسے کرایوسفیئر سے وابستہ خطرات کے لیے الگ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ ایسی تباہ کن ہمالیائی قدرتی آفات کے لیے آسان اور سادہ امدادی طریقہ کار اپنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ رنجیت کرن کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی میں نیپال کا کردار نہایت معمولی ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے سب سے شدید اثرات نیپال جیسے پہاڑی اور ہمالیائی ممالک کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی برادری کی جانب سے ملنے والی مدد کو محض امداد کے طور پر نہیں بلکہ معاوضے کے طور پر فراہم کیا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کے قرض کا اضافی بوجھ نہیں ہونا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan