
نئی دہلی، 7 ستمبر (ہ س)۔
جنوب مغربی دہلی کے ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ عمارت منہدم ہونے کے معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے مکان مالک خاندان کے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے جائیداد کی مالکن ارمیلا گپتا (75)، ان کے شوہر ہری رام گپتا (81) اور بیٹے مہیش گپتا (52) کو گرفتار کیا ہے۔
حادثے کے بعد چلائی گئی طویل بچاو¿ مہم میں ملبے کے نیچے دبے کل 12 افراد کو باہر نکال کر اسپتال پہنچایا گیا۔ ان میں سے سات افراد کی موت ہو گئی، جبکہ پانچ زخمی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ زخمیوں میں تین کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کے بعد مختلف ایجنسیوں نے مسلسل ملبہ ہٹانے اور دبے ہوئے لوگوں کی تلاش کا کام جاری رکھا۔ بچاو¿ مہم مکمل ہونے کے بعد پولیس نے واضح کیا کہ ملبے سے کل 12 افراد کو نکالا گیا تھا۔ اسپتال میں سات افراد نے دم توڑ دیا۔ لاشیں ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
حادثے میں جان گنوانے والوں میں زیادہ تر نوجوان طلبہ تھے۔ مرنے والوں کی شناخت ابھیشیک (20)، یوراج سونی (20)، پون (17)، ارپت (19)، اکشت سنگھ یادو (18) اور 75 سالہ سریندر سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ ایک متوفی کی شناخت ابھی نہیں ہو سکی ہے۔
ابھیشیک اتر پردیش کے سون بھدر کا رہنے والا تھا، جبکہ یوراج سونی چھتیس گڑھ کے درگ کا باشندہ تھا۔ 17 سالہ پون اتر پردیش کے اوریا کا رہنے والا تھا۔ ارپت جہاز مدھیہ پردیش کے دیواس اور اکشت سنگھ یادو مدھیہ پردیش کے کٹنی کا رہنے والا تھا۔ یہ پانچوں نوجوان طلبہ تھے۔ وہیں 75 سالہ سریندر سنگھ مزدوری کرتے تھے۔ ساتویں متوفی کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔
حادثے میں زخمی ہونے والے پانچ افراد کا علاج جاری ہے۔ ان کی شناخت اصغر علی (30)، نیرج باوا (19)، آدتیہ کمار (19)، نتیش چِب (19) اور محمد ایان (18) کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق پانچ زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ جس جائیداد میں حادثہ ہوا، وہ ارمیلا گپتا کے نام پر ہے۔ تاہم، جائیداد کا انتظام اور اس کا کام ان کے شوہر ہری رام گپتا اور بیٹے مہیش گپتا کے ذریعے کیا جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ہری رام کے نام عمارت کی دو منزلوں کے بجلی کے کنکشن بھی ہیں۔ ہری رام گپتا بھارتی فضائیہ کے ریٹائرڈ سارجنٹ ہیں۔ وہیں ان کا بیٹا مہیش ہارڈویئر اور پینٹ کی دکان چلاتا ہے۔ مہیش کے دو بچے ہیں۔
پولیس اب یہ جانچ کر رہی ہے کہ عمارت کا استعمال کس طرح کیا جا رہا تھا اور اس میں رہنے والے لوگوں کی حفاظت کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے۔ حادثے کے بعد پولیس نے مکان مالک ہری رام گپتا کو راجستھان کے بھیواڑی سے پکڑا تھا۔ اس کے بعد تحقیقات آگے بڑھنے پر ان کی اہلیہ ارمیلا گپتا اور بیٹے مہیش گپتا کا کردار بھی سامنے آیا۔ پولیس نے تینوں کو اس معاملے میں گرفتار کر لیا ہے۔
اب ان سے پوچھ گچھ کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمارت کی تعمیر، دیکھ بھال اور اس میں چلنے والے پیئنگ گیسٹ (پی جی) سے متعلق فیصلے کون لے رہا تھا۔
پولیس کی تحقیقات اب صرف مکان مالک خاندان تک محدود نہیں ہیں۔ حادثے کے وقت عمارت میں پی جی چلانے والے لوگوں اور مزدوروں کے ٹھیکیدار کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔ یہ معلوم کیا جائے گا کہ حادثے سے پہلے عمارت میں کس نوعیت کا کام چل رہا تھا، وہاں کتنے لوگ رہ رہے تھے اور تعمیر یا مرمت کے دوران حفاظتی معیاروں کی پابندی کی گئی تھی یا نہیں۔
تحقیقات میں ان لوگوں کا کردار سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پولیس عمارت سے متعلق دستاویزات، بجلی کے کنکشن اور دیگر ریکارڈ بھی کھنگال رہی ہے۔ بچاو¿ مہم مکمل ہونے کے بعد لاشیں ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ