
تہران، 7 ستمبر (ہ س)۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے باہر ایک نئے ’’نو گو زون‘‘ یا پابندی والے بحری علاقے کے قیام کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس علاقے میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کو ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ نئے پابندی والے زون کا اعلان آئندہ چند روز میں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ علاقہ امریکی بحری ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہوگا اور خلیج کے بعض علاقوں تک پھیلے گا۔محسن رضائی کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے نئے نقشوں پر عمان کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے زون میں داخل ہونے والے کسی بھی بحری جہاز کو ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
تازہ اطلاعات کے مطابق موجودہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق گزشتہ 10 دنوں کے دوران اس راستے سے روزانہ اوسطاً صرف 10 کموڈیٹی بحری جہاز گزرے، جو مئی کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔ایران پہلے ہی امریکی بحری ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات پر دباؤ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی بامعنی برآمدات تقریباً سات ہفتوں سے نہیں کی ہیں، جس سے تہران کی آمدنی پر بھی اثر پڑا ہے۔
تازہ کشیدگی میں امریکا نے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کی جانب سے امریکی جنگی جہازوں کے خلاف میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی اور تیل بردار جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو اپنے خلاف اقتصادی دباؤ کی مہم قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے قبل آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی۔اسماعیل بقائی نے امریکا پر خطے میں ’’غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ‘‘ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہوا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.25 فیصد بڑھ کر 97.48 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 92.62 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے یہاں طویل عرصے تک بحری آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی تیل کی سپلائی، شپنگ اخراجات اور توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے نئے پابندی والے زون کے اعلان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ تہران اس زون کو کس طرح نافذ کرتا ہے اور امریکا و دیگر ممالک اس کے ردعمل میں کیا اقدامات کرتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan