
ساگر، 06 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ضلع ساگر کی تحصیل بنڈا کے تحت آس پاس کے کچھ گاوں میں زہریلی شراب پینے سے 6 افراد کی موت ہو گئی۔ اتوار کی صبح تمام افراد کو بنڈا سول اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔
ساگر کی کلکٹر پرتیبھا پال، ایس پی انوراگ سوجانیہ سمیت پورا ضلع انتظامیہ اور پولیس عملہ موقع پر پہنچ گیا ہے۔ انتظامی افسران جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔
کلکٹر پرتیبھا پال نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ 24 تا 48 گھنٹوں میں کسی بھی قسم کی شراب پی ہے یا ان میں زہریلی شراب کے اثرات نظر آ رہے ہیں تو فوری طور پر اسکریننگ کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مقامی ڈاکٹروں کی ٹیم سے رابطہ کر سکتے ہیں یا براہِ راست سول اسپتال پہنچ کر جانچ کرا سکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق، متوفیان میں گولو عرف چمن لودھی (45)، ساکن گوگرا خورد، دگ وجے لودھی (28)، ساکن نوراج، کرتار سنگھ لودھی (30)، ساکن نوراج، اجیار سنگھ لودھی (56)، ساکن گوگرا خورد، روشن لودھی (30)، ساکن پاٹن تھانہ ونائیکا اور راجیندر لودھی (32)، ساکن نوراج-گوگرا شامل ہیں۔ گولو عرف چمن کو پہلے سے کینسر کا عارضہ لاحق ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
ہرنام رائے (42)، ساکن چوکا، اتم نتھو نائک (42)، ساکن دلپت پور، منگل رجک (40)، ساکن گوگرا خورد، پرم قبائلی، ساکن ہنوتا اور دھن سنگھ قبائلی (30)، ساکن ہنوتا کو تشویشناک حالت میں بی ایم سی ساگر ریفر کیا گیا ہے۔ امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنے کے لیے بنڈا میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
مقامی ذرائع اور ٹھیکیداروں کے مطابق، اس سانحے کے پسِ پشت محکمہ آبکاری کی مجرمانہ لاپروائی سامنے آ رہی ہے۔ حال ہی میں شہر کے ایک لائسنس یافتہ شراب کے ٹھیکیدار نے محکمہ آبکاری کے دفتر میں نقلی اور غیر قانونی شراب فروخت ہونے کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس کے علاوہ محکمہ آبکاری کی حالیہ میٹنگ میں بھی لائسنس یافتہ ٹھیکیداروں نے غیر قانونی شراب کے کاروبار کو لے کر حکام کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ الزام ہے کہ اس کے باوجود محکمے نے بر وقت کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا، جس کا خمیازہ 6 بے قصور گاوں والوں کو اپنی جان گنوا کر بھگتنا پڑا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن