
سیول، 05 ستمبر (ہ س)۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے جمعہ کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کے معاملے پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت اس تجویز کا وسیع پیمانے پر جائزہ لے رہی ہے اور کسی بھی فیصلے سے قبل ملک کی دفاعی تیاریوں اور قانونی ضوابط کو مدنظر رکھا جائے گا۔
جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق صدارتی دفتر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اگر جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں اپنا تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ آبنائے میں آزاد اور محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی بین الاقوامی کوششوں میں فوجی تعاون کر سکتا ہے۔ تاہم اس تعاون سے جزیرہ نما کوریا میں جنوبی کوریا کی دفاعی تیاریوں پر کسی بھی طرح کا منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔یہ بیان ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنوبی کوریا کی حکومت آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کے منصوبے پر پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ رپورٹس میں جنگی معاونتی جہاز سمیت دیگر فوجی وسائل کی تعیناتی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا۔عہدیدار نے واضح کیا کہ حکومت کی بات چیت ابھی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنے کے مرحلے تک نہیں پہنچی ہے اور فوجی تعیناتی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔صدارتی دفتر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں فوجی تعاون کا مطلب صرف جنگی دستوں کی تعیناتی نہیں ہے۔ حکومت غیر جنگی اہلکاروں، تلاش اور بچاؤ کی ٹیموں سمیت دیگر ممکنہ متبادل طریقوں پر بھی غور کر رہی ہے۔عہدیدار نے کہا کہ فوجی تعیناتی کو براہ راست جنگ یا لڑائی سے جوڑنا ضروری نہیں ہے۔ جنوبی کوریا اپنی سکیورٹی صورتحال اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر آبنائے ہرمز میں تعاون فراہم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا گیا ہے۔ ٹرمپ کئی مرتبہ سیول پر امریکی درخواست مسترد کرنے کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں۔
تاہم، جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی تعیناتی کا معاملہ سیول اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان گزشتہ سال ہونے والے بڑے ٹیرف معاہدے کے تحت اقتصادی اور دفاعی شعبوں سے متعلق معاہدوں کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ صدارتی دفتر کے عہدیدار نے تسلیم کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات فی الحال آسانی سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں سیمی کنڈکٹر سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔ اسی دوران امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ سیمی کنڈکٹر شعبے کے لیے ایک خصوصی اور اسٹریٹجک ٹیرف پالیسی تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔فی الحال جنوبی کوریا کا موقف یہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ تعاون کا فیصلہ ملک کی سکیورٹی ضروریات، قانونی طریقہ کار اور دفاعی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan