
مالدہ، 4 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال میں نیو فرکا اسٹیشن کے قریب ریل لائن کے نیچے مٹی دھنس جانے سے ریل ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جمعرات کو ہونے والے واقعے کے بعد ریلوے انتظامیہ نے فوری طور پر مرمت کا کام شروع کر دیا، لیکن اپ لائن پر ٹرینوں کا آپریشن اب بھی تقریبا روک دیا گیا ہے۔ مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر جمعہ کو بھی کئی لمبی دوری کی ٹرینیں منسوخ کرنی پڑیں۔
جمعہ کو ہاوڑہ-نیو جلپائی گوڑی وندے بھارت ایکسپریس، ہاوڑہ-بالور گھاٹ ایکسپریس، ہاوڑہ-رادھیکا پور کولک ایکسپریس اور نیو جلپائی گوڑی-ہاوڑہ وندے بھارت ایکسپریس کو منسوخ کر دیا گیا۔ کچھ ٹرینیں متبادل راستوں پر چلائی جا رہی ہیں۔ دیگھا-مالڈا ٹاو¿ن ایکسپریس کو بھی رام پورہاٹ پر مختصر طور پر روک دیا گیا۔
ریلوے انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق سیالدہ-سبروم کنچنجنگھا ایکسپریس، سیالدہ-ہلدی باڑی دارجلنگ میل، سیالدہ-مالدہ ٹاو¿ن گوڑ ایکسپریس، سیالدہ-نیو جلپائی گوڑی پداتک ایکسپریس، سیالدہ-علی پوردوار کنچنکنیا ایکسپریس اور سیالدہ-بالورگھاٹ ایکسپریس سمیت کئی ٹرینوں کا آپریشن متاثر ہوا ہے۔ صاحب گنج-مالدہ ٹاو¿ن میمو ٹرین بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق مرکزی روٹ پر فی الحال ٹرین آپریشن معطل ہے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے اتربنگ ایکسپریس متبادل راستے پر چلائی جا رہی ہے۔ یہ ٹرین بینڈیل-کٹوا-عظیم گنج کے راستے نیو فرکا پہنچے گی۔
ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خراب حصے کو مکمل طور پر محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ہی عام ٹرین آپریشن دوبارہ شروع ہوگا۔ مشرقی ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر شیورام ماجھی نے کہا کہ مرمت کا کام جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ یہ ایک اہم ریل روٹ ہے، اس لیے مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کے بعد ہی ٹرین خدمات بحال کی جائیں گی۔
ریلوے ذرائع کے مطابق بدھ کی دوپہر تقریبا 2 بج کر 30 منٹ پر نیو فرکا اسٹیشن سے تقریبا 100 میٹر کے فاصلے پر، برہروا کی طرف تقریبا 20 میٹر کے فاصلے پر، ریلوے لائن کے نیچے کی مٹی کئی فٹ دھنس گئی۔ اس کی اطلاع سب سے پہلے رات کو ریلوے لائن کی نگرانی کرنے والے عملے نے دی۔ اس کے بعد ریلوے حکام موقع پر پہنچ گئے اور اپ لائن پر ٹرین آپریشن معطل کر دیا گیا۔
پتھر اور پتھر کے ٹکڑے جھارکھنڈ سے لاکر مرمت کے لیے اس جگہ پر ڈالے جا رہے ہیں۔ اسی دوران ریلوے لائن سے متصل تالاب کا کنارہ بھی منہدم ہو گیا۔ اس کی وجہ سے لائن کے قریب بجلی کا کھمبے ایک طرف جھکا ہوا تھا۔
انجینئروں کی نگرانی میں تقریبا 150 کارکن مرمت کے کام میں مصروف ہیں۔ پتھربھرکے دھنسی ہوئی مٹی کو دوبارہ بلند کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم تازہ واقعہ سے ریلوے حکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی