پالوک ٹیکنالوجیز کے حصص کمزور آغاز کے بعد بحال ہوئے، آئی پی او کے سرمایہ کاروں کو اپر سرکٹ کے باوجود معمولی فائدہ
نئی دہلی، 4 ستمبر(ہ س)۔ آٹوموبائل، انجینئرنگ سروسز، لاجسٹکس اینڈ فلیٹ مینجمنٹ اور ٹیلی کام انجینئرنگ سروسز کمپنی پالوک ٹیکنالوجیز کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں کمزور آغاز کے ساتھ اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو ایک جھٹکا دیا۔ تاہم، بعد میں خریداری ک
شیئر


نئی دہلی، 4 ستمبر(ہ س)۔ آٹوموبائل، انجینئرنگ سروسز، لاجسٹکس اینڈ فلیٹ مینجمنٹ اور ٹیلی کام انجینئرنگ سروسز کمپنی پالوک ٹیکنالوجیز کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں کمزور آغاز کے ساتھ اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو ایک جھٹکا دیا۔ تاہم، بعد میں خریداری کی حمایت نے سرمایہ کاروں کے نقصانات کو محدود کر نے میں مددکی۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 48 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج اس کی لسٹنگ بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 2.50 فیصد رعایت کے ساتھ 46.80 روپےکی سطح پر ہوئی۔

کمزور لسٹنگ کے بعد فروخت کے دباو¿ کی وجہ سے اسٹاک 44.46روپے کی نچلی سرکٹ کی سطح پر گر گیا۔ تاہم، بعد میں خریداروں نے خریدنا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے اس کا لوورسرکٹ بریک ہوگیااور مسلسل خریداری کی وجہ سے اسٹاک 49.14 روپے کی اوپری سرکٹ کی سطح پر پہنچ گیا۔ اس طرح، تجارت کے پہلے دن، کمپنی کے آئی پی او نے سرمایہ کار کو فی حصص1.14 روپے یعنی2.38 فیصد کا معمولی فائدہ دیا۔

کمپنی کا 33 کروڑ روپے کا آئی پی او 28 اگست سے یکم ستمبر کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا، جس کی وجہ سے اسے مجموعی طور پر 271.68 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میں اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 83.89 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 286.74 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 372.67 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔

اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے کل 68.76 لاکھ نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او کی آمدنی کو نئی ریڈی مکس کنکریٹ مشینری (آر ایم سی) اور ڈی جی سیٹ خریدنے، قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے، آئی پی او سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔پالوک ٹیکنالوجیز کی مالی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جیسا کہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے جو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال2023تا2024 میں کمپنی کا خالص منافع 3.43 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 9.63 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کا خالص منافع 13.84 کروڑ روپے تھا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال2023تا2024 میں 101.74 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 102.90 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کو 105.09 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

اس دوران کمپنی کے قرض میں مسلسل کمی آئی۔ مالی سال 2023تا2024 کے اختتام پر کمپنی پر 30.05 کروڑ روپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں قدرے کم ہو کر 17.49 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کا قرض اس عرصے کے دوران کم ہو کر 13.17 کروڑ روپے رہ گیا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 18.48 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح، کمپنی کی مجموعی مالیت 2024تا2025 میں بڑھ کر 31.82 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی وقت، یہ پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں 45.66 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

کمپنی کے رزرواور سرپلس کی بات کریں تو کمپنی کو اس عرصے میں اس محاذ پر اتار چڑھاو¿ کا سامنا کرنا پڑا۔ مالی سال2023تا2024 میں یہ 15.55 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح 2024تا2025 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس 28.72 کروڑ روپے تک بڑھ گئے۔ اسی کے ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس بڑھ کر 31.71 کروڑ روپے ہو گئے۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023تا2024 میں 13.27 کروڑ روپے رہی جو کہ 2024تا2025 میں بڑھ کر 18.99 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں بڑھ کر 23.93 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande