عالمی رکاوٹوں کے باوجود ہندوستان کی 7.8 فیصد کی نمو شاندار: سیتارمن
نئی دہلی، 03 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے کہا کہ دنیا بھر میں درپیش مشکلات کے باوجود ہندوستان نے مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں 7.8 فیصد کی ’’شاندار گروتھ‘‘ درج کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تما
نیویارک میں ہندوستان کے قونصل خانہ کی جانب سے منعقدہ اعلیٰ سطحی تجارتی گول میز کانفرنس میں سیتارمن اور دیگر۔


نیویارک پہنچنے پر سیتارمن کا استقبال کرتے ہوئے وی ایم کواترا


نئی دہلی، 03 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے کہا کہ دنیا بھر میں درپیش مشکلات کے باوجود ہندوستان نے مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں 7.8 فیصد کی ’’شاندار گروتھ‘‘ درج کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام تر چیلنجز کے باوجود یہ دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنی ہوئی ہے۔

وزارتِ خزانہ نے جمعرات کے روز ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں بتایا کہ مرکزی وزیر برائے خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے بدھ کے روز نیویارک میں بینک آف امریکہ کے اشتراک سے ہندوستان کے قونصل خانہ جنرل کے زیر اہتمام منعقدہ اعلیٰ سطحی تجارتی گول میز میٹنگ میں سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

نرملا سیتارمن نے سرمایہ کاروں سے کہا، ’’دنیا بھر میں درپیش مشکلات اور تمام تر چیلنجز کے باوجود ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ جاری مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں ہندوستان نے 7.8 فیصد کی شاندار شرحِ ترقی درج کی ہے۔‘‘

سیتارمن نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے ہندوستان نے متعدد اصلاحات (جیسے انسولوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ) کے ذریعے ریگولیٹری یقینی صورتِ حال بھی فراہم کی ہے۔ ایسی اصلاحات سے ضوابط کی پاسداری آسان ہوئی ہے اور کاغذی کارروائی میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے قبل اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی حکومت ہند کا یہ بنیادی محور رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے جن اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی ہے، ان میں شامل ہیں: کیپٹل ایسیٹس کی تشکیل اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی (خاص طور پر ایوی ایشن) کے ذریعے صنعت کو مسلسل تعاون فراہم کرنا، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانا، اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرنا، گلوبل کیپبلٹی سینٹرز کی مدد کرنا، ایم ایس ایم ای کے لیے قرض کی دستیابی یقینی بنانا اور بینکوں کے نان پرفارمنگ ایسیٹس (این پی اے) میں کمی لانا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے بینکوں اور صنعتوں کے پنپنے، آگے بڑھنے اور مستحکم ہونے کے لیے بہتر کاروباری فضا قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔

سیتارمن نے کہا کہ کووڈ-19 کے ظہور کے بعد سے عالمی معیشت کے سامنے مسلسل پیدا ہونے والے چیلنجز کے باوجود ہندوستان گزشتہ کئی برسوں سے مالیاتی فہم و فراست (فسکل پروڈینس) اور مالیاتی نظم و ضبط (فسکل ڈسپلن) کے راستے پر گامزن رہنے کے لیے مسلسل پرعزم رہا ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کے بارے میں بات کی جس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتیں اپنے اپنے علاقوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اسے آسان بنانے میں زیادہ دلچسپی اور صحت مند مسابقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی وسیع تر قومی مہم کا حصہ ہیں۔

امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ونے موہن کواترا نے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ 31 اگست کو جاری کیے گئے پہلی سہ ماہی کے جی ڈی پی اعداد و شمار ہندوستانی معیشت کے استحکام کے عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط روابط قائم کر کے ہندوستان کی تیز رفتار ترقی پذیر معیشت سے دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ قبل ازیں نیویارک کے پین اسٹیشن پر پہنچنے پر امریکہ میں ہندوستان کے سفیر وی ایم کواترا اور قائم مقام قونصل جنرل وشال ہرش نے سیتارمن کا خیرمقدم کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande