
لکھنؤ، 25 ستمبر (ہ س)۔’انتودیہ‘ کے بانی مفکر پنڈت دین دیال اپادھیائے کی 110ویں سالگرہ جمعہ کو منائی گئی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر پنڈت دین دیال اپادھیائے کی تصویر پر پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ یوگی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے پنڈت دین دیال اپادھیائے کی شخصیت اور خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ ’ایکاتم مانوواد‘ اور ’انتودیہ‘ کے بانی، ممتاز قومی مفکر اور بھارتیہ جن سنگھ کے بانی اراکین میں شامل پنڈت دین دیال اپادھیائے کی سالگرہ پر انہیں عاجزانہ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے نے ہندوستانی ثقافت اور زندگی کی اقدار پر مبنی ترقی کا ایسا تصور پیش کیا، جس میں سماج کی آخری صف میں کھڑے شخص کی فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی۔ انہوں نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کے نظریات کو آج بھی جامع، خود کفیل اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے تحریک کا ذریعہ قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی پیدائش 25 ستمبر 1916 کو ہوئی تھی۔ وہ 1942 میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پرچارک بنے اور اپنی زندگی ہندوستان کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے 1951 میں جن سنگھ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور 1967 میں اس کے قومی صدر بنے۔ 11 فروری 1968 کو ان کا انتقال ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے نے ملک کو ’ایکاتم مانو درشن‘ دیا، جس کا مقصد صف میں کھڑے آخری شخص کو خود کفیل بنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران انتودیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔ چار کروڑ لوگوں کو مکانات، 12 کروڑ کو بیت الخلا، 10 کروڑ کو اجولا گیس کنکشن، 3.5 کروڑ کو بجلی کے کنکشن اور 80 کروڑ لوگوں کو مفت راشن فراہم کیا گیا، جس کے نتیجے میں 26 کروڑ افراد غربت سے باہر آئے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے نے کانگریس کی مبینہ خوشامد اور بدعنوانی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کو مضبوط کیا تھا۔ ان کا نظریہ آج بھی ملک کے لیے ایک مثال ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan