یک روزہ عالمی کپ 2027اور آسٹریلیا کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے چیلنج کیلئے ٹیم تیاری کر رہی ہے: پرسدھ کرشنا
نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔ بھارتی کرکٹ ٹیم اپنے طویل اور اہم ہوم سیزن کا آغاز 27 ستمبر سے ویسٹ انڈیز کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز سے کرے گی۔ ٹیم کا مقصد 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے خلاف آئندہ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز
یک روزہ عالمی کپ 2027اور آسٹریلیا کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کیلئے ٹیم تیاری کر رہی ہے: پرسدھ کرشنا


نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔ بھارتی کرکٹ ٹیم اپنے طویل اور اہم ہوم سیزن کا آغاز 27 ستمبر سے ویسٹ انڈیز کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز سے کرے گی۔ ٹیم کا مقصد 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے خلاف آئندہ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے بھی خود کو تیار کرنا ہے۔ہوم سیزن سے قبل جیو اسٹار سے گفتگو میں بھارتی تیز گیند باز پرسدھ کرشنا نے انجری سے واپسی، پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے چیلنج، مختلف حالات میں مسلسل اچھی کارکردگی پیش کرنے کی ضرورت اور 2027 ورلڈ کپ کے لیے اپنی تیاریوں کے بارے میں بات کی۔

انجری سے واپسی کے بارے میں پرسدھ نے کہا، ’’انجری کا شکار ہونا اور جاری کرکٹ کا حصہ نہ بن پانا کسی کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے۔ بحالی کا عمل مشکل ہوتا ہے، کیونکہ آپ کو بار بار وہی چیزیں کرنی پڑتی ہیں۔ ایسے میں ٹیم اور اسپورٹس سائنس اسٹاف کا کردار بہت اہم ہوجاتا ہے۔ آپ کے آس پاس کے لوگ بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے خاندان اور دوستوں جیسے اچھے لوگوں کا ساتھ ضروری ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے علاوہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اپنی خواہش کے مطابق چیزیں کرنے کے لیے کتنے پُرعزم ہیں۔ یہ کہنا آسان ہے کہ میں زخمی تھا، کچھ نہیں کر سکا اور واپسی میں وقت لگے گا۔ لیکن ذہنی مضبوطی کے ساتھ دوبارہ اٹھ کر نئے سرے سے آغاز کرنا بھی ضروری ہے۔ میں ہمیشہ خود سے کہتا ہوں کہ اگر انجری کے وقت میں ایک خاص سطح پر تھا تو واپسی کے بعد مجھے اس سے دس گنا بہتر ہونا چاہیے۔ یہ سوچ بہت اہم ہے۔‘‘نیوزی لینڈ کے دورے کے حوالے سے پرسدھ نے کہا، ’’نیوزی لینڈ بالکل مختلف چیلنج ہوگا۔ وہاں کھیلنا شاندار ہے، لیکن ایک بولر کے طور پر یہ آپ کی ہر طرح سے آزمائش لیتا ہے۔ آپ کی مہارت، برداشت اور ایک سیشن کے بعد دوسرے سیشن میں مسلسل واپسی کرنے کی صلاحیت کا امتحان ہوتا ہے۔ فی الحال ہماری توجہ بنیادی چیزوں کو درست کرنے پر ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’وہاں پہنچنے کے بعد ہم حالات کو سمجھیں گے اور اسی کے مطابق خود کو ڈھالیں گے۔ ہمارا مقصد ہر طرح کی مہارت کے ساتھ خود کو تیار کرنا ہے، تاکہ وہاں پہنچ کر حالات کے مطابق ان کا استعمال کر سکیں۔ فاسٹ بولرز کی حیثیت سے یقینی طور پر ہمارا امتحان ہوگا۔ برصغیر کے مقابلے میں نیوزی لینڈ میں آپ سے کہیں زیادہ محنت کی توقع ہوتی ہے اور میں اسی چیلنج کا منتظر ہوں۔‘‘

2027 میں آسٹریلیا کے خلاف بارڈر-گواسکر ٹرافی کے بارے میں پرسدھ نے کہا، ’’میں دو مرتبہ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیل چکا ہوں، ایک بار آسٹریلیا میں اور ایک بار انگلینڈ میں۔ ان تجربات سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ پانچ میچوں اور 25 دن کی کرکٹ میں اپنی تال برقرار رکھنا اور رفتار کو قائم رکھنا بالکل مختلف چیلنج ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’ٹیم پہلے ہی اس چیلنج کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ تمام کھلاڑی اچھی حالت میں ہیں اور اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے صحیح ذہنی کیفیت میں ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ڈبلیو ٹی سی میں بنے رہنے کیلئے یہ سیریز کتنی اہم ہے، اس لیے میں اس کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں۔‘‘

بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرنے کے بارے میں پرسدھ نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ حالات کی پروا کیے بغیر خود کو ڈھالنے اور کارکردگی دکھانے کی صلاحیت ہے۔ آپ جہاں بھی کھیلیں، آپ کو دوڑ کر آنا اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ بولنگ کرنی ہوتی ہے۔ اپنے بولنگ پارٹنرز کو سمجھنا بھی اہم ہے۔ جس طرح بلے بازی میں شراکت داری ہوتی ہے، اسی طرح بولنگ میں بھی شراکت داری ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق کارکردگی پیش کرنا ضروری ہے۔‘‘

2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے بارے میں پرسدھ نے کہا، ’’ون ڈے فارمیٹ کافی دلچسپ ہے اور میرے خیال میں یہ سب سے مشکل فارمیٹ ہے، کیونکہ آپ کو کھیل کے مختلف مراحل کے درمیان خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ ایک ایسے بولر کے لیے جسے تینوں مراحل میں بولنگ کرنی ہوتی ہے، پاور پلے نے اسے مزید چیلنجنگ بنا دیا ہے۔ لیکن یہی چیلنج ہے۔ چیزیں جتنی مشکل ہوتی ہیں، اتنے ہی کم لوگ انہیں اچھی طرح انجام دے پاتے ہیں۔ میں اسی چیلنج کا منتظر ہوں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ون ڈے کرکٹ دلچسپ ہے اور جنوبی افریقہ میں ہونے والا ورلڈ کپ فاسٹ بولرز کے لیے خاص طور پر دلچسپ ہوگا۔ 300 اور 350 رنز اب عام اسکور بنتے جا رہے ہیں۔ لیکن بولر کے طور پر ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ حریف ٹیم کو زیادہ سے زیادہ رنز بنانے سے روکیں اور مختلف حکمت عملیوں کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔‘‘

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande