
نئی دہلی،25ستمبر(ہ س)۔سروجنی نائیڈو سینٹر فار ویمنز اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ساہتیہ اکیڈمی کے اشتراک سے مورخہ چوبیس ستمبر دوہزار چھبیس بروز جمعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایف ٹی کے آڈیٹوریم (سینٹینری گیٹ نمبر تیرہ میں) Gendered Epistemologies: Unpacking the Indian Knowledge System کے موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد کیا۔سینٹر کی ڈائریکٹر پروفیسر وجے لکشمی برارا کی قیادت اور ڈاکٹر اپرنا دکشت کی نظامت میں منعقدہ اس سمپوزیم میں ایک سو چالیس سے زائد افراد شریک ہوئے، جن میں ممتاز مقررین، ماہرِین تعلیم، محققین اور طلبہ کے علاوہ یونیورسٹی کے اندر اور باہر سے تعلق رکھنے والے شرکا شامل تھے۔پروگرام میں ایک افتتاحی اجلاس، دو علمی نشستیں اور ایک اختتامی اجلاس شامل تھا، جن میں آٹھ مقررین نے صنف، علم کی تشکیل اور ہندوستانی نظامِ علم کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔افتتاحی اجلاس کا آغاز ساہتیہ اکیڈمی کی پروگرام آفیسر محترمہ مریگ نیانی گپتا کے رسمی خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو کچھ ابھی تک دستاویزی شکل میں محفوظ نہیں ہے، اسے دستاویزی شکل دینا کتنا اہم ہے۔ افتتاحی خطاب کرتے ہوئے، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تعلیمی امور کی ڈین اور ’سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوشل انکلوژن‘ کی ڈائریکٹر پروفیسر تنوجا نے ’گیان‘، ’پران‘ اور حکمت کے تصورات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے ہندوستانی نظامِ علم سے وابستگی کے دوران مرد و زن اور جدید و قدیم جیسے دوئی پر مبنی تصورات سے بالا تر ہوکر غورو فکر کی ضرورت پر زور دیا۔کلیدی خطاب ممتاز ماہرِ عمرانیات پروفیسر میتری چودھری نے کیا، جنھوں نے حوالہ جات کے ذریعے علم تک رسائی حاصل کرنے کی اہمیت کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ علم کی تخلیق اور تشکیل کے عمل کو سمجھنا ہندوستانی نظامِ علم سے منسلک کسی بھی مکالمے یا مطالعے کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر وجے لکشمی برارا نے ’قومی تعلیمی پالیسی‘ دوہزار بیس کے دائرہ کار میں اس طرح کی علمی سرگرمیوں کے انعقاد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے اس سمپوزیم کو صنفی مطالعات اور علم کی تخلیق کے شعبے میں ایک بروقت اور اہم پیش رفت قرار دیا۔پہلے ورکنگ سیشن جس کا عنوانLived Experiences تھا، کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ سماجیات کے سینئر پروفیسر، پروفیسر اروندر اے۔ انصاری نے کی۔ نارتھ ایسٹرن ہل یونیورسٹی کی پروفیسر ریکھا شانگپلیانگ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ سماجیات کی پروفیسر گومتی بودرا ہیمبروم نے بالترتیب ’کھاسی‘ اور ’بائگا‘ برادریوں کے ذاتی تجربات پر مقالات پیش کیے۔ اس سیشن میں کیس اسٹڈیز کے ذریعے ہندوستانی نظامِ علم کا جائزہ لیا گیا اور علم، سماجی زندگی، ثقافتی روایات اور روزمرہ کے تجربات کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا گیا۔دوسرے ورکنگ سیشن کا عنوان ’نڈراسٹینڈنگ دی انڈین نالج سسٹم‘تھا، اس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تاریخ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما نے کی۔ دہلی یونیورسٹی کے شعبہ ہندی کی سربراہ پروفیسر سدھا سنگھ نے ادب میں خواتین کی عدم موجودگی (یا نظر انداز کیے جانے) پر گفتگو کی اور خواتین کے علم اور زبان کی تجرباتی نوعیت پر زور دیا۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار سنسکرت اینڈ انڈک اسٹڈیز کے پروفیسر رجنیش کمار مشرا نے کلاسیکی سنسکرت متون کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی نظامِ علم کو سمجھنے کے لیے قدیم تحریروں کا مطالعہ بنیادی حوالے کے طور پر انتہائی اہم ہے۔دہلی یونیورسٹی کے لیڈی ارون کالج میں ڈیولپمنٹ کمیونیکیشن کی سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انجلی کپیلا نے خواتین کی لوک روایات پر مقالہ پیش کیا، جس میں خاص طور پر گڑھوال کی خواتین کی زندگیوں اور درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا گیا۔اختتامی خطاب اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اگنو) نئی دہلی کے رجسٹرار پروفیسر جتیندر کمار سریواستو نے کیا۔ انھوں نے مختلف ادبی تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستانی خواتین مصنفین اور شاعرات کی علمی و ادبی خدمات کو پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ ان عملوں کو سمجھا جا سکے جن کے ذریعے خواتین نے علم کی تخلیق، اظہار اور ترسیل کی ہے۔اختتامی سیشن کی صدارت فیکلٹی آف سوشل سائنسز،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈین پروفیسر زبیر مینائی نے کی۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے ایسے علمی پروگراموں کے انعقاد کی اہمیت کو اجاگر کیا جو ہندوستانی نظامِ علم کے حوالے سے تنقیدی فکر اور بین الشعبہ جاتی ر ابطے کو فروغ دیتے ہیں۔سمپوزیم کی کنوینر ڈاکٹر اپرنا دکشت کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلی رپورٹ اور ان کے باضابطہ اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais