
جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر ایریا کے تحت آرام پارک میں درسِ قرآن، سورۃ بقرہ کی آیات 55 تا 61 کی تفسیر بیاننئی دہلی،25ستمبر(ہ س)۔
جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر ایریا کے زیر اہتمام آرام پارک میں ہفتہ وار درسِ قرآن کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر امیرِ مقامی فلاح الدین فلاحی نے سور? بقرہ کی آیات 55 تا 61 کا ترجمہ و تفسیر بیان کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے واقعات، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور ان کی ناشکری و نافرمانی کے انجام پر روشنی ڈالی۔
فلاح الدین فلاحی نے آیات کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ بنی اسرائیل میں سے ستر افراد بطور نمائندہ منتخب کیے گئے تھے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اے موسیٰ! ہم اس وقت تک اس کتاب پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم تمہیں اللہ تعالیٰ سے کلام کرتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔ ان کے اس مطالبے پر ان پر صاعقہ نازل ہوا اور وہ ہلاک ہوگئے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی عطا فرمائی تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔ اس واقعے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے احکام کے سامنے انسان کی عاجزی کا سبق ملتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بادل کا سایہ کیا اور انہیں من و سلویٰ جیسی پاکیزہ اور بلا مشقت غذا عطا فرمائی۔ انہیں حکم دیا گیا کہ اللہ کی عطا کردہ پاکیزہ نعمتیں کھائیں اور اس کی ناشکری نہ کریں، مگر انہوں نے نعمتوں کی قدر نہ کی اور اپنے اوپر ظلم کیا۔
فلاح الدین فلاحی نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ، مگر عاجزی کے ساتھ داخل ہونا اور اللہ سے مغفرت طلب کرنا، تاکہ ان کی خطائیں معاف کی جائیں۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو بدل ڈالا اور اپنی من مانی روش اختیار کی، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب نازل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں اپنی خواہش کے مطابق تبدیلی کرنا اور اس کی نعمتوں کے باوجود نافرمانی اختیار کرنا انسان کے لیے تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔درس میں پانی کے واقعے کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بنی اسرائیل نے پانی کی ضرورت محسوس کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اپنا عصا پتھر پر ماریں، چنانچہ اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لیے پانی کا انتظام ہوگیا۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت سے کھانے پینے کی اجازت دی گئی، لیکن ساتھ ہی زمین میں فساد پھیلانے اور حد سے تجاوز کرنے سے منع کیا گیا۔
اس موقع پر مشرف صاحب، لال محمد صاحب، حسنین صاحب، آفتاب صاحب، امیرالحق صاحب اور دیگر افراد موجود تھے۔ ہرشت مشرا جی سمیت برادرانِ وطن نے بھی درسِ قرآن میں شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais