
تہران، 23 ستمبر(ہ س)۔ ایران کی مسلح افواج کی جنرل اسٹاف کمیٹی اور خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیانات ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی اسٹریٹیجک ناکامی کی حقیقت کو نہیں چھپا سکتے۔ایرانی فوجی قیادت نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ایران کے خلاف جارحانہ بیانات اور بار بار دی جانے والی دھمکیاں زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ بیان کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے دعوے امریکا کی موجودہ اسٹریٹیجک صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ واشنگٹن اپنی مسلسل ناکامیوں کی تلافی کے لیے عالمی اقتصادی نظام پر دباؤ ڈالنے اور ایران کے خلاف سیاسی و اقتصادی محاذ کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق محض لفظی دعووں اور دھمکیوں کے ذریعے جنگ کے نتائج کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ایرانی مسلح افواج نے کہا کہ امریکی صدر کی تقریر میں ایران کے خلاف کارروائیوں کا دفاع اور نئی دھمکیاں دراصل داخلی سیاسی مقاصد کے لیے پروپیگنڈے کا ذریعہ ہیں۔ ایرانی فوجی حکام نے یہ بھی کہا کہ ایسی بیان بازی طاقت کا اظہار نہیں بلکہ موجودہ حالات میں اسٹریٹیجک دباؤ کی علامت ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کے سامنے ایران کے ساتھ معاہدے یا مزید سخت کارروائی کے درمیان انتخاب موجود ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی امریکی پالیسی کا دفاع کیا۔ایرانی مسلح افواج کی جنرل اسٹاف کمیٹی اور خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی کارروائی کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور جارحیت کرنے والوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan